تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 294
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۴ سورة النجم وَاتَّفَقَ عَامَّةُ الْبُلَغَاءِ عَلَى مُحُسنِهَا اعلیٰ درجہ پر ہیں اور اس کے حسن اور خوبی پر شعراء کا اتفاق وَنَبَاهَتِهَا، وَاخْتَارَهَا الْحَكُومَةُ الإِنْكِلِيزِيَّةُ ہے اور گورنمنٹ انگریزی نے اس کتاب کو اپنے مدارس لِطَلَبَاءِ مَدَارِسِهَا وَسُبَقَاءِ كَوَ الجِهَا تعلیمیہ میں کالجوں کے پڑھنے والوں اور علوم ادبیہ کے پیالے وشرباء كييَا لِجَهَا لِتَكْمِيلِ الْقَارِئِينَ وَلَا پینے والوں کے لئے ان کی تکمیل تعلیم کی غرض سے داخل کیا يُنْكِرُهَا إِلَّا الَّذِي مِثْلُكَ غَنِيٌّ وَشَقِی ہے اور اس سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا بجز اس شخص کے كَعَمِينَ جو تیرے جیسا غبی اور شقی اور اندھوں کی طرح ہو۔ هُذَا مَا أَوْرَدْنَا لِإِلْزَامِكَ وَإِفْحَامِكَ یہ وہ نظائر شعراء متقدمین ہیں جن سے تیرا الزام اور مِنْ نَظَائِرِ الْمُتَقَدِّمِيْنَ وَكَلامِ انجام مقصود ہے مگر وہ امر جو کلام الہی م الہی کے سیاق سباق اور اس الْمَشْهُورِينَ الْمَقْبُولِينَ وَأَمَّا مَا يَظْهَرُ کے موتیوں کی لڑیوں کے حقہ سے معلوم ہوتا ہے تو وہ طریق منْ سِيَاقٍ كَلَامِ اللهِ وَسِبَاقِهِ وَسِبَاقِهِ وَمِنْ عِقَدِ ہدایت طلبوں کے لئے بہت قریب ہے۔ کیونکہ اللہ جل شانہ دُرِ حِقَاقِهِ، فَهُوَ طَرِيقُ أَقْرَبُ مِنْ ذلِك نے جیسا کہ روح القدس کو ذی مرۃ کے ساتھ موصوف کیا لِلْمُسْتَرْشِدِينَ فَإِنَّهُ تَعَالَى كَمَا وَصَفَ ہے اسی طرح دوسرے مقام میں ذی قوۃ کے ساتھ رُوحَ الْقُدُسِ بِقَوْلِهِ ذُو مِرَّةٍ كَذَلِكَ منسوب کیا ہے اور کہا ہے کہ ذِي قُوَّةٍ عِنْدَ ذِي الْعَرْشِ وَصَفَهُ فِي مَقَامٍ أَخَرَ بِذِي قُوَّةٍ فَقَالَ ذِي مَكِينِ پس خدا تعالیٰ کا ایک مقام میں جبرئیل کو ذو مرة قُوَّةٍ عِنْدَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينٍ فَقَوْلُهُ في کہنا اور دوسرے مقام میں ذو مرۃ کی جگہ ذو قوۃ کہ دینا مَقَامٍ ذُو مِرَّةٍ وَفِي مَقَامٍ ذِي قُوَّةٍ شَرْحُ یہ ذو مرۃ کے معنے کی ایک شرح لطیف ہے جو تبدیل بیان لَطِيفٌ بِأَفَانِينَ الْبَيَانِ، وَكَذَلِكَ جَرَتْ سے کی گئی ہے اور اسی طرح قرآن کریم میں اللہ جل شانہ سُنَّةُ اللهِ فِي الْقُرْآنِ فَإِنَّهُ يُفَسِرُ بَعْضَ کی یہی سنت جاری ہے کہ بعض مقامات قرآن اس کے مُقَامَاتِهِ بِبَعْضٍ أَخَرَ لِيَزِيدَ الْإِطْمِيْنَانُ بعض آخر کے لئے بطور تفسیر ہیں تا کہ خدا تعالیٰ اپنی کتاب وَلِيَعْصَمَ كِتَابَهُ مِنْ تَحْرِيفِ الْخَائِنِينَ کو خیانت کرنے والوں کی تحریف سے بچاوے۔ وَلَقَدْ ذَكَرَ اللهُ تَعَالَى فِي كِتَابِهِ اور خدا تعالیٰ نے اپنی محکم کتاب اور بزرگ صحیفوں الْمُحْكَمِ وَسِفَرِهِ الْمُكَرَّمِ صِفَاتٍ أُخْرَى میں روح القدس کے اور صفات بھی بیان کئے ہیں ہیں اور اس لِلرُّوحِ الأَمِينِ، وَبَيَّنَ عِبَارَتَهُ وَصِدُقَهُ کی پاکیزگی اور اس کی سچائی اور اس کی امانت اور اس کے