تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 289
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۹ سورة النجم قرآن شریف میں جو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہ ارشاد ہوا کہ مَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَی یہ اس شدید اور اعلیٰ ترین قرب ہی کی طرف اشارہ ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کمال تزکیہ نفس اور قرب الہی کی ایک دلیل ہے۔ رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۱۴۱) پیشگوئی کا مقام اللہ تعالیٰ کے اعلیٰ درجہ کے قرب کے بڑوں ممکن نہیں ہے کیونکہ یہ وہ مقام ہوتا ہے جہاں و مَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى کا مصداق ہوتا ہے اور یہ درجہ تب ملتا ہے جب دنا فتدلی کے مقام پر پہنچے۔ جب تک ظلی طور پر اپنی انسانیت کی چادر کو پھینک کر الوہیت کی چادر کے نیچے اپنے آپ کو نہ چھپائے یہ مقام اُسے کب مل سکتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں بعض سلوک کی منزلوں سے ناواقف صوفیوں نے آکر ٹھوکر کھائی ہے اور اپنے آپ کو وہ خدا سمجھ بیٹھے ہیں اور ان کی اس ٹھوکر سے ایک خطر ناک غلطی پھیلی ہے جس نے بہتوں کو ہلاک کر ڈالا اور وہ وحدت وجود کا مسئلہ ہے جس کی حقیقت سے یہ لوگ نا واقف محض ہوتے ہیں ۔ میرا مطلب صرف اسی قدر ہے کہ میں تمہیں یہ بتاؤں کہ مَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَی کے درجہ پر جب تک انسان نہ پہنچے اس وقت تک اُسے پیشگوئی کی قوت نہیں مل سکتی اور یہ درجہ اس وقت حاصل ہوتا ہے جبکہ انسان قرب الہی حاصل کرے۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۱۰ مورخه ۱۷ مارچ ۱۹۰۱ صفحه ۴) فرماتا ہے کہ اُس کی زبان ہو جاتا ہوں اسی پر اشارہ ہے مَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى اس لئے رسول صلعم نے الحکم جلد ۴ نمبر ۴۴ مورخه ۱۰ دسمبر ۱۹۰۰ء صفحه (۴) جو فرمایا وہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد تھا۔ الہام کچھ شے نہیں جب تک کہ انسان اپنے تئیں شیطان کے دخل سے پاک نہ کرلے اور بے جا تعصبوں اور کینوں اور حسدوں سے اور ہر ایک خدا کو ناراض کرنے والی بات سے اپنے آپ کو صاف نہ کرلے۔ دیکھو اس کی مثال ایسی ہے کہ ایک حوض ہے اور اس میں بہت سی نالیاں پانی کی گرتی ہیں۔ تو پھر ان نالیوں میں سے ایک کا پانی گندہ ہے تو کیا وہ سارے پانی کو گندہ نہ کر دے گا۔ یہی راز ہے جو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی نسبت کہا گیا کہ مَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى ہاں انسان کو ان کمزوریوں کے دور کرنے کے واسطے استغفار بہت پڑھنا چاہیے۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۱۸ مورخه ۷ ارمئی ۱۹۰۱ ء صفحه (۱۳) جب انسان حجۃ اللہ کے مقام پر ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ ہی اس کے جوارح ہو جاتا ہے مَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَی کے یہی معنے ہیں اور یہ اس وقت ہوتا ہے جبکہ انسان کامل طور پر اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار اور اس کا وفادار بندہ ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا کے ساتھ اسے کامل صلح ہوتی ہے۔ اس کی کوئی حرکت کوئی سکون اللہ تعالیٰ