تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 288 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 288

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۸ سورة النجم حضرت عیسیٰ کی نسبت ایسا اور اس قدر گھٹا دیا کہ جس کے تصور سے بدن پر لرزہ پڑتا ہے۔ ( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۱۱ تا ۱۲۶) نبی کے دل میں جو خیالات اٹھتے ہیں اور جو کچھ خواطر اس کے نفس میں پیدا ہوتی ہیں در حقیقت وہ تمام ردو وحی ہوتی ہیں جیسا کہ قرآن کریم اس پر شاہد ہے ۔ وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى لیکن قرآن کریم کی وحی دوسری وحی سے جو صرف معانی منجانب اللہ ہوتی ہیں تمیز کلی رکھتی ہے اور نبی کے اپنے تمام اقوال وحی غیر متلو میں داخل ہوتے ہیں کیونکہ روح القدس کی برکت اور چمک ہمیشہ نبی کے شامل حال رہتی ہے اور ہر یک بات اس کی برکت سے بھری ہوئی ہوتی ہے اور وہ برکت روح القدس سے اس کلام میں میں رکھی جاتی ہے لہذا ہر یک بات نبی کی جو نبی کی توجہ تام سے اور اس کے خیال کی پوری مصروفیت سے اس کے منہ سے نکلتی ہے وہ بلا شبہ وحی ہوتی ہے تمام احادیث اسی درجہ کی وحی میں داخل ہیں جن کو غیر متلووحی کہتے ہیں ۔ ( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۳۵۲، ۳۵۳) ۲ یوں تو کوئی القا الفاظ کے بغیر نہیں ہوتا اور ایسے معانی جو الفاظ سے مجرد ہوں ذہن میں آہی نہیں سکتے لیکن پھر خود قرآن اور حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی ایک فرق ہے اور اُسی فرق کی بنا پر حدیث کے الفاظ کو اس چشمہ سے نکلا ہوا قرار نہیں دیتے جس چشمہ سے قرآن کے الفاظ نکلے ہیں گو عام القا اور الہام کا مفہوم مد نظر رکھ کر حدیث کے الفاظ بھی من جانب اللہ ہیں چنانچہ آیت وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وحی یوحی اس پر شہادت دے رہی ہے۔ ( بركات الدعا، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۰ ، ۲۱ حاشیه ) نبی کی ہر یک بات خدا تعالیٰ کے حکم سے ہوتی ہے۔ نبی کا زمانہ نزولِ شریعت کا زمانہ ہوتا ہے اور شریعت وہی ٹھہر جاتی ہے جو نبی عمل کرتا ہے۔ ( نور القرآن ، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۳۹۱) خدا تعالیٰ نے ۔۔۔۔ یہ کہہ کر وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وحی یوحی آپ کی تمام کلام کو اپنی کلام ٹھہرایا ہے۔ (کتاب البریه، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۱۰۵) اس نبی کا قول بشری ہوا و ہوس کے چشمہ سے نہیں نکلتا بلکہ اس کا قول خدا کا قول ہے۔ اب دیکھو کہ اس آیت کے رو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گل اقوال خدا تعالیٰ کے اقوال ثابت ہوتے ہیں۔ ریویو آف ریلجنز جلد ا نمبر ۵ صفحه ۲۰۵)