تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 290 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 290

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۰ سورة النجم کے اذن اور امر کی ایک کل ہوتی ہے۔ ایسی حالت میں اس پر مَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَی کا اطلاق ہوتا ہے اور یہ مقام کامل اور اکمل طور پر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل تھا۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۲۵ مورخہ ۷ ارجولائی ۱۹۰۵ء صفحہ ۱۰) یادر ہے کہ اگر چہ ہر ایک نبی میں مہدی ہونے کی صفت پائی جاتی ہے کیونکہ سب نبی تلامیذ الرحمان ہیں اور نیز اگرچہ ہر ایک نبی میں مؤید بروح القدس ہونے کی صفت بھی پائی جاتی ہے کیونکہ تمام نبی روح القدس سے تائید یافتہ ہیں لیکن پھر بھی یہ دو نام دو نبیوں سے کچھ خصوصیت رکھتے ہیں یعنی مہدی کا نام ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خاص ہے۔ اور مسیح یعنی مؤید بروح القدس کا نام حضرت عیسی علیہ السلام سے کچھ خصوصیت رکھتا ہے گو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس نام کے رو سے بھی فائق ہیں کیونکہ اُن کو شدید القوی کا دائی انعام دیا گیا ہے لیکن روح القدس کے مرتبہ میں جو شدید القوی سے کم مرتبہ ہے حضرت مسیح کو یہ خصوصیت دی گئی ہے جیسا کہ یہ دونوں خصوصیتیں قرآن شریف سے ظاہر ہیں ۔ آنحضرت کا نام امی مہدی رکھا اور عَلَمَهُ شَدِيدُ الْقُوی فرمایا۔ اور حضرت مسیح کو روح القدس سے تائید یافتہ قرار دیا جیسا کہ کسی شاعر نے بھی کہا ہے فیض روح القدس ارباز مدد فرماید ہمہ آں کارکنند آنچه مسیحا می کرد اور نبیوں کی پیشگوئیوں میں یہ تھا کہ امام آخر الزمان میں یہ دونوں صفتیں اکٹھی ہو جائیں گی۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ وہ آدھا اسرائیلی ہوگا اور آدھا اسماعیلی (اربعین نمبر ۲ ، روحانی خزائن جلد ۷ ۱ صفحه ۳۵۸، ۳۵۹ حاشیه ) مہدی کے مفہوم میں یہ معنے ماخوذ ہیں کہ وہ کسی انسان کا علم دین میں شاگرد یا مرید نہ ہو اور خدا کی ایک خاص تحلی تعلیم لدنی کے نیچے دائمی طور پر نشو نما پاتا ہو جو روح القدس کے ہر یک تمثل سے بڑھ کر ہے اور ایسی تعلیم پانا صفت محمد ی ہے اور اسی کی طرف آیت عَلَمَهُ شَدِيدُ الْقُولی میں اشارہ ہے اور اس فیض کے دائمی اور غیر منفک ہونے کی طرف آیت وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وحی یوحی میں اشارہ ہے اور مسیح کے مفہوم میں یہ معنے ماخوذ ہیں جو دائمی طور پر وہ روح القدس اس کے شامل ہو۔ جو شدید القوی کے درجہ سے کمتر ہے کیونکہ روح القدس کی تاثیر یہ ہے کہ وہ اپنے منزل علیہ میں ہو کر انسانوں کو راستے کا ملزم بناتا ہے مگر شدید القوی راستے کا اعلیٰ رنگ منزل علیہ میں ہو کر انسانوں کے دلوں میں چڑھتا ہے۔ اربعین نمبر ۲ روحانی خزائن جلد ۷ ۱ صفحه ۳۶۰، ۳۶۱ حاشیه )