تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 352
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۵۲ سورة الاحزاب وَأَمَّا ذِكْرُ نُزُولِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ فَمَا اور جو عیسیٰ بن مریم کے نزول کا ذکر ہے پس كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَنْ تَحْمِلَ هَذَا الْإِسْمَ الْمَذْكُورَ فِي کسی مومن کے لئے جائز نہیں کہ احادیث میں اس الْأَحَادِيثِ عَلَى ظَاهِرِ مَعْنَاهُ لِأَنَّهُ يُخَالِفُ نام کو ظاہر پر محمول کرے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے اس قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا أَحَدٍ مِنْ قول کے خلاف ہے کہ ہم نے محمدؐ کو کسی مرد کا باپ رِجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللهِ وَ خَاتَمَ النَّبِيِّينَ أَلا نہیں بنایا ہاں وہ اللہ کے رسول اور نبیوں کے خاتم تَعْلَمُ أَنَّ الرَّبَّ الرَّحِيمَ الْمُتَفَضّل سلمی ہیں۔ کیا تو نہیں جانتا کہ اس محسن رب نے ہمارے نَبِيَّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمَ الْأَنْبِيَاءِ نبی کا نام خاتم الانبیاء رکھا ہے اور کسی کو مستثنیٰ نہیں کیا بِغَيْرِ اسْتِثْنَاءِ ، وَفَسَّرَةً نَبِيِّنَا فِي قَوْلِهِ لا نَبِي اور آنحضرت نے طالبوں کے لئے بیان وار واضح سے بَعْدِى بِبَيَانِ وَاضِح لِلطَّالِبِينَ وَلَوْ جَوَّزْنَا اس کی تفسیر یہ کی ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے ظُهُورَ نَبِي بَعْدَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اور اگر ہم آنحضرت کے بعد کسی نبی کا ظہور جائز رکھیں تَجَوَّزْنَا انْفِتَاحَ بَابِ وَحْيِ النُّبُوَّةِ بَعْدَ تو لازم آتا ہے کہ وحی نبوت کے دروازہ کا انفتاح بھی تَغْلِيقِهَا، وَهُذَا خُلْفٌ كَمَا لَا يَخْفَى عَلَی بند ہونے کے بعد جائز خیال کریں اور یہ باطل ہے الْمُسْلِمِينَ وَكَيْفَ يَجِيعُ نَبِي بَعْدَ رَسُولِنَا جیسا کہ مسلمانوں پر پوشیدہ نہیں اور آنحضرت کے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدِ انْقَطَعَ الْوَحْيُ بَعْدَ بعد کوئی نبی کیوں کر آوے حالانکہ آپ کی وفات کے وَفَاتِهِ وَخَتَمَ اللهُ بِهِ النَّبِيِّينَ أَنَعْتَقِدُ بِأَنَّ بعد وی نبوت منقطع ہوگئی ہے اور آپ کے ساتھ عِيسَى الَّذِي أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْإِنْجِيلُ هُوَ خَاتَمُ نبیوں کو ختم کر دیا ہے۔ کیا ہم اعتقاد کرلیں کہ ہمارے الْأَنْبِيَاءِ ، لَا رَسُولُنَا صلعم وَ قَدِ انْقَطَعَ نبی خاتم الانبیاء نہیں بلکہ عیسی جو صاحب انجیل ہے وہ الْوَحْيُ بَعْدَ وَفَاتِهِ وَ خَتَمَ اللهُ بِهِ النَّبِيِّينَ - خاتم الانبیاء ہے ، یا ہم یہ اعتقادر خاتم الانبیاء ہے ، یا ہم یہ اعتقاد رکھیں کہ ابنِ مریم أَنَعْتَقِدُ أَنَّ ابْنَ مَرْيَمَ يَأْتِي وَيَنْسَخُ بَعْضَ آکر قرآن کے بعض احکام کو منسوخ اور کچھ زیادہ أَحْكَامِ الْقُرْآنِ وَيَزِيدُ بَعْضًا، فَلَا يَقْبَلُ کرے گا ۔ اور نہ جزیہ لے گا اور نہ جنگ چھوڑے گا الْجِزْيَةَ وَلَا يَضَعُ الْحَرْبَ، وَقَدْ أَمَرَ اللهُ بِأَخْذِهَا حالانکہ اللہ کا ارشاد ہے کہ جزیہ لے لو اور جزیہ لینے وَأَمَرَ بَوَضْعِ الْحَرْبِ بَعْدَ أَخْذِ الْجِزْيَةِ : أَلَا تَقْرَأُ کے بعد جنگ چھوڑ دو۔ کیا تو یہ آیت نہیں پڑھتا کہ آيَةَ يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَغِرُونَ ' ذلت کے ساتھ اپنے ہاتھ سے جزیہ دیویں ۔ پس ل التوبة : ٢٩