تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 353
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۵۳ سورة الاحزاب فَكَيْفَ يَنْسَخُ الْمَسِيحُ مُحْكَمَاتِ الْفُرْقَانِ قرآن کے محکمات کو کیونکر مسیح منسوخ کرے گا۔ وَكَيْفَ يَتَصَرَّفُ فِي الْكِتَابِ الْعَزِيزِ وَيَطْمِسُ اور کتاب عزیز میں کیوں کر تصرف کر کے کچھ احکام بَعْضَ أَحْكَامِهِ بَعْدَ تَكْمِيلِهَا : فَأَعْجَبَنِي أَنَّهُمْ کو کمیل کے بعد مٹا دے گا۔ میں تعجب کرتا ہوں کہ يَجْعَلُونَ الْمَسِيحَ نَاسِخَ بَعْضِ أَحْكَامِ الْفُرْقَانِ وہ کیوں کر فرقان کے بعض احکام کا مسیح کو ناسخ وَلَا يَنْظُرُونَ إِلَى أَيَةِ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ " بتاتے ہیں، اور اس آیت کو نہیں دیکھتے کہ آج میں وَلَا يَتَفَكَّرُونَ أَنَّهُ لَوْ كَانَتْ لِتَكْمِيْلِ دِينِ نے تمہارے دین کو تمہارے لئے کامل کر دیا ہے، الْإِسْلَامِ حَالَةٌ مُنْتَظَرَةٌ يُرْجى ظُهُورُهَا بَعْدَ اگر دین اسلام کی تکمیل کے لئے کوئی حالت منتظرہ انْقِضَاءِ أُلُوفٍ مِنَ السَّنَوَاتِ، لَفَسَدَ مَعْلَى إِكْمَالِ ہوتی جو کئی ہزار سال کے گزرنے کے بعد اس کے الدِّينِ وَالْفَرَاغِ مِنْ كَمَالِهِ بِإِنْزَالِ الْقُرْآنِ، وَلَكَانَ ظہور کی امید ہو سکتی تو قرآن کے ساتھ اکمال دین قَوْلُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ مِنْ ہونا فاسد ہو جاتا اور خدا کا یہ کہنا کہ آج میں نے نَوْعِ الْكَذِبِ وَخِلَافِ الْوَاقِعَةِ، بَلْ كَانَ الْوَاجِبُ تمہارے دین کو تمہارے لئے کامل کر دیا ہے فِي هَذِهِ الصُّورَةِ أَنْ يَقُولَ الرَّبُّ تَبَارَكَ وَتَعَالیٰ جھوٹ اور خلاف واقعہ ہوجاتا بلکہ اس صورت إِنِّي مَا أَنْزَلْتُ هَذَا الْقُرْآنَ كَامِلًا عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّی میں تو واجب تھا کہ یوں کہتا کہ میں نے محمد صلی اللہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلْ سَأُنْزِلُ بَعْضَ ايَاتِهِ عَلی علیہ وسلم پر قرآن کو کامل نہیں اتارا بلکہ آخر زمانہ میں عِيسَى بْنِ مَرْيَمَ فِي آخِرِ الزَّمَانِ، فَيَوْمَئِذٍ يَكْمُلُ عیسی ابن مریم پر اس کی کچھ آیات اتاروں گا پس الْقُرْآنُ وَمَا كَمَلَ إِلَى هَذَا الْحِينِ۔ (حمامة البشرى ، روحانی خزائن جلدی صفحه ۲۰۰ تا ۲۰۲) اس دن قرآن کامل ہوگا اور ابھی کامل نہیں ۔ ( ترجمه از مرتب ) ہے کیا ایسا بد بخت مفتری جو خود رسالت اور نبوت کا دعویٰ کرتا ہے قرآن شریف پر ایمان رکھ رکھ سکتا ہے اور کیا ایسا وہ شخص جو قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہے۔ اور آیت ولاكن رسُولَ اللهِ وَ خَاتَمَ النَّبِيِّنَ کو خدا کا کلام یقین رکھتا ہے وہ کہہ سکتا ہے کہ میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد رسول اور نبی ہوں ۔ صاحب انصاف طلب کو یا درکھنا چاہئے کہ اس عاجز نے کبھی اور کسی وقت حقیقی طور پر نبوت یا رسالت کا دعویٰ نہیں کیا اور غیر حقیقی طور پر کسی لفظ کو استعمال کرنا اور لغت کے عام معنوں کے لحاظ سے اس کو بول چال میں لانا مستلزم کفر نہیں۔ مگر میں اس کو بھی پسند نہیں کرتا کہ اس میں عام مسلمانوں کو دھو کہ لگ جانے کا احتمال ہے۔ لیکن وہ ل المائدة : ٤