تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 351
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۵۱ سورة الاحزاب وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے میرے بعد وَسَلَّمَ لَا نَبِي بَعْدِي وَسَمَاهُ اللهُ تَعَالیٰ کوئی نبی نہیں۔ اور آپ کا نام اللہ تعالیٰ نے خاتم الانبیاء خَاتَمَ الْأَنْبِيَاءِ فَمِنْ أَيْنَ يَظْهَرُ نَبِيُّ بَعْدَهُ رکھا ہے ۔ پھر آپ کے بعد کوئی نبی کیسے آسکتا ہے۔ ( تحفہ بغداد، روحانی خزائن جلد ۷ صفحه (۳۴) ( ترجمه از مرتب ) وَإِنَّ الْأَنْبِيَاءَ لَا يُنْقَلُونَ مِنْ هَذِهِ انبیاء کا اس وقت دنیا سے دار الآخرت کی طرف الدُّنْيَا إِلى دَارِ الْآخِرَةِ إِلَّا بَعْدَ تَكْمِيلِ انتقال ہوتا ہے جب وہ اس پیغام کی تبلیغ کو مکمل کر لیتے رِسَالَاتٍ قَدْ أُرْسِلُوا لِتَبْلِيغِهَا، وَلِكُلِّ ہیں جس کے لئے انہیں بھیجا گیا تھا۔ اور ہر زمانے کو نئی بُرْهَةٍ مِنَ الزَّمَانِ مُنَاسَبَةٌ بِوُجُودِ نَبِي وقت سے ایک مناسبت ہوتی ہے پس اللہ تعالیٰ ہر نبی کو فَيُرْسَلُ كُلُّ نَبِي بِرِعَايَةِ الْمُنَاسَبَاتِ مناسبت کی رعایت کے ساتھ مبعوث کرتا ہے اس کی وَإِلَى هَذَا إِشَارَةٌ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى وَ لكِن طرف اللہ تعالیٰ کا یہ قول اشارہ کرتا ہے ولکن رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنَ فَلَوْ لَمْ يَكُنْ رَسُولَ اللهِ وَ خَاتَمَ النَّبِيِّينَ ۔ اگر ہمارے رسول لِرَسُوْلِنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكِتَابِ الله صلی اللہ علیہ وسلم کو اور خدا کی کتاب قرآن کریم کو تمام الْقُرْآنِ مُنَاسَبَةٌ لجَمِيعِ الْأَزْمِنَةِ الأُتِيَةِ آئندہ زمانوں کے لوگوں سے علاج اور مداوات کے وَأَهْلِهَا عِلَاجًا وَمُدَاوَاةً لَمَا أُرْسِلَ ذلِك لحاظ سے مناسبت نہ ہوتی تو ہمارے یہ عظیم نبی کریم النَّبِيُّ الْعَظِيمُ الْكَرِيمُ لِإِصْلَاحِهِمْ لوگوں کی اصلاح اور ان کے علاج کے لئے قیامت تک وَمُدَاوَاتِهِمْ لِلتَّوَامِ إِلى يَوْمِ الْقِيَامَةِ کے لئے نہ بھیجے جاتے ۔ پس ہمیں محمد رسول اللہ صلی اللہ فَلَا حَاجَةً لَنَا إِلَى نَبِي بَعْدَ مُحَمَّدٍ صَلَّى الله علیہ وسلم کے بعد کسی اور نبی کی ضرورت نہیں کیونکہ آپ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَدْ أَحَاطَتْ بَرَكَاتُهُ كُلّ کی برکات تمام زمانوں پر محیط ہیں اور آپ کے فیوض أَزْمِنَةٍ، وَفُيُوْضُهُ وَارِدَةٌ عَلَى قُلُوبِ الْأَوْلِيَاء اولیاء ، اقطاب اور محدثین بلکہ تمام مخلوق کے قلوب پر وَالْأَقْطَابِ وَالْمُحَدِّثِينَ، بَلْ عَلَى الْخَلْقِ جاری ہیں ۔ اگر چہ وہ اس بات کا علم نہیں رکھتے کہ یہ كُلِّهِمْ، وَإِنْ لَّمْ يَعْلَمُوا أَنَّهَا فَائِضَةٌ مِنْهُ فیوض آپ ہی کی طرف سے آرہے ہیں پس آپ کا تمام فَلَهُ الْمِئَةُ الْعُظمى عَلَى النَّاسِ أَجْمَعِينَ لوگوں پر عظیم احسان پر عظیم احسان ہے۔ ( ترجمہ از مرتب) (حمامة البشری، روحانی خزائن جلد ۷ صفحه ۲۴۳ ، ۲۴۴)