تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 328 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 328

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲۸ سورة السجدة يَشْرَبُونَ بَلْ حَيَاةٌ كَلِيمِ اللهِ ثَابِتٌ بِنَصِ کی زندگی قرآن کریم سے ثابت ہے۔ کیا تو قرآن کریم الْقُرْآنِ الْكَرِيمِ۔ أَلا تَقْرَأُ فِي الْقُرْآنِ مَا میں خدا تعالیٰ کا یہ قول نہیں پڑھتا کہ فَلَا تَكُنْ فِي مِرْيَةٍ قَالَ اللهُ تَعَالَى عَزَّ وَجَلَّ فَلَا تَكُنْ فِي مِرْيَةٍ مِّنْ لِقَابِہ اور تو جانتا ہے کہ یہ آیت حضرت موسیٰ مِنْ لِقَابِهِ، وَأَنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ علیہ السلام کے بارہ میں نازل ہوئی ہے اور یہ حیات موسیٰ نَزَلَتْ فِي مُوسَى، فَهِيَ دَلِيلٌ صَرِيحٌ عَلَى حَيَاةِ علیہ السلام پر صریح دلیل ہے کیونکہ آپ نے رسول کریم مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ ، لِأَنَّهُ لَقِيَ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی اور مردے ان صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْأَمْوَاتُ لا لوگوں سے ملاقات نہیں کرتے جو زندہ ہوں اور تجھے يُلَاقُوْنَ الْأَحْيَاء وَلَا تَجِدُ مِثْلَ هَذِهِ اس قسم کی آیات عیسی علیہ السلام کی شان میں نو میں نہیں ملیں الْآيَاتِ فِي شَأْنِ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ، گی ہاں ان کی وفات کا ذکر مختلف مقامات پر آیا ہے پس نَعَمُ جَاءَ ذِكْرُ وَفَاتِهِ فِي مَقَامَاتٍ شَتى تو تدبر کر ۔ اللہ تعالی تدبر کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ فَتَدَبَّرُ فَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَدَبِرِينَ ( حمامة البشرى ، روحانی خزائن جلدے صفحہ ۲۱۹، ۲۲۰) ( ترجمه از مرتب ) یہ تمام شہادتیں ( جن کا ذکر حضور پہلے فرما چکے ہیں ۔ ناقل ) اگر ان ( مسیح علیہ السلام ۔ ناقل ) کے مرنے کو ثابت نہیں کرتیں تو پھر ہم کہہ سکتے ہیں کہ کوئی نبی بھی فوت نہیں ہوا سب جسم عنصری آسمان پر جا بیٹھے ہیں کیونکہ اس قدر شہادتیں ان کی موت پر ہمارے پاس موجود نہیں بلکہ حضرت موسیٰ کی موت خود مشتبہ معلوم ہوتی ہے کیونکہ ان کی زندگی پر یہ آیت قرآنی گواہ ہے یعنی یہ کہ فلا تَكُنْ فِي مِرْيَةٍ مِّنْ لِقَابِهِ اور ایک حدیث بھی گواہ ہے کہ موسیٰ ہر سال دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ خانہ کعبہ کے حج کرنے کو آتا ہے۔ (تحفہ گولڑویہ ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۱۰۱) اوَ لَمْ يَرَوْا أَنَّا نَسُوقُ الْمَاءَ إِلَى الْأَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهِ زَرْعًا تَأْكُلُ مِنْهُ انْعَامُهُمْ وَأَنْفُسُهُمْ أَفَلَا يُبْصِرُونَ ) کیا انہوں نے کبھی نہیں دیکھا کہ ہمارا یہی دستور اور طریق ہے کہ ہم خشک زمین کی طرف پانی روانہ کر دیا کرتے ہیں پھر اس سے کھیتی نکالتے ہیں تا ان کے چار پائے اور خود وہ کھیتی کو کھاویں اور مرنے سے بچ