تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 327
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲۷ سورة السجدة خدا کے چھپانے میں بھی ایک عظمت ہوتی ہے اور خدا کا چھپانا ایسا ہے جیسے کہ جنت کی نسبت فرمایا ہے فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنِ ) کوئی جی نہیں جانتا کہ کیسی کیسی قُرةِ اعین ان کے لئے رکھی گئی ہے ) دراصل چھپانے میں بھی ایک قسم کی عزت ہوتی ہے جیسے کھا نالا یا جاتا ا نالا یا جاتا ہے تو اس پر دستر پوشیدہ خوان وغیرہ ہوتا ہے تو یہ ایک عزت کی علامت ہوتی ہے۔ البدر جلد اول نمبر ۱۱ مورخه ۹ جنوری ۱۹۰۳ ء صفحه ۸۶) وَلَنُذِيقَنَّهُمُ مِّنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَى دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ ایسے وقت میں جبکہ شرارت انتہاء کو پہنچتی ہے اور قطعی فیصلہ کا وقت آجاتا ہے تو مخالفوں کے حق میں انبیاء علیہم السلام کی بھی دعا قبول نہیں ہوتی ۔ دیکھو حضرت نوح علیہ السلام نے طوفان کے وقت اپنے بیٹے کنعان کے لئے جو کافروں اور منکروں سے تھا دعا کی اور قبول نہ ہوئی ( دیکھو سورہ ہو د رکوع ۴ ) اور ایسا ہی جب فرعون ڈوبنے لگا تو خدا پر ایمان لایا مگر قبول نہ ہوا۔ ہاں اس خاص وقت سے پہلے اگر رجوع کیا جاوے تو البتہ قبول ہوتا ہے ۔ وَ لَنُذِيقَنَّهُم مِّنَ الْعَذَابِ وقت کی تو بہ قبول ہوتی ہے۔ الْأَدْنَى دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ یعنی جب خفیف سے آثار عذاب کے ظاہر ہوں تو اس (حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۴۲۷) وَ لَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَبَ فَلَا تَكُنْ فِي مِرْيَةٍ مِّنْ لِقَابِهِ وَجَعَلْنَهُ هُدًى لِبَنِي إِسْرَاءِيلَ أَعِيسَى حَقٌّ وَمَاتَ الْمُصْطَفَى تِلْكَ کیا عیسی علیہ السلام زندہ ہیں اور محد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم إِذَا قِسْمَةٌ ضِيزَى اِعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ وفات پاگئے؟ یہ تقسیم ناقص ہے انصاف کرو جو تقویٰ کے لِلتَّقْوى وَإِذَا ثَبَتَ أَنَّ الْأَنْبِيَاءَ زیادہ قریب ہے۔ اور جب یہ ثابت ہو گیا کہ تمام کے تمام كُلَهُمْ أَحْيَاء فِي السَّمَاوَاتِ، فَأَنى انبیاء آسمانوں میں زندہ ہیں تو حیات مسیح علیہ السلام کے لئے خُصُوصِيَّةٍ ثَابِتَةٌ لِحَيَاةِ الْمَسِيحِ أَهُوَ کون سی خصوصیت ثابت ہے؟ کیا آپ کھاتے اور پیتے ہیں يَأْكُلُ وَيَشْرَبُ وَهُمْ لَا يَأْكُلُونَ وَلَا اور باقی انبیاء نہیں کھاتے اور نہیں پیتے بلکہ کلیم اللہ علیہ السلام