تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 239
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۳۹ سورة القصص وَ دَخَلَ الْمَدِينَةَ عَلَى حِينِ غَفْلَةٍ مِّنْ أَهْلِهَا فَوَجَدَ فِيهَا رَجُلَيْنِ يَقْتَتِلْنِ هُذَا مِنْ شِيعَتِهِ وَهُذَا مِنْ عَدُوِّهِ ۚ فَاسْتَغَاثَهُ الَّذِي مِنْ شِيعَتِهِ عَلَى الَّذِي مِنْ عَدُوِّهِ فَوَكَزَةً مُوسَى فَقَضَى عَلَيْهِ قَالَ هُذَا مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَنِ إِنَّهُ عَدُوٌّ مُّضِلَّ مُّبِينٌ ۔ موسیٰ پر الزام مکا مارنے کا جو عیسائی لگاتے ہیں اس کی نسبت فرمایا کہ وہ گناہ نہیں تھا ان کا ایک اسرائیلی بھائی نیچے دبا ہوا تھا طبعی جوش سے انہوں نے ایک مکا مارا۔ وہ مر گیا۔ جیسے اپنی جان بچانے کے لئے اگر کوئی خون بھی کر دے تو وہ جرم نہیں ہوتا۔ موسی کا قول قرآن شریف میں ہے هذا مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَنِ یعنی قبطی نے اس اسرائیلی کو عمل شیطان (فاسدا رادہ) سے دبایا ہوا تھا۔ البدر جلد نمبر ۲ مورخہ ۷ رنومبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۱۵) قَالَ رَبِّ إِنِّي قَتَلْتُ مِنْهُمْ نَفْسًا فَأَخَافُ أَنْ يَقْتُلُون ) انبیاء کو خدا ذلیل نہیں کیا کرتا ۔ انبیاء کی قوت ایمانی یہ ہے کہ خدا کی راہ میں جان دے دینا وہ اپنی سعادت جانیں ۔ اگر کوئی موسیٰ علیہ السلام کے قصہ پر نظر ڈال کر اس سے یہ نتیجہ نکالے کہ وہ ڈرتے تھے تو یہ بالکل فضول امر ہے ( اور اس ڈر سے یہ مراد ہرگز نہیں کہ ان کو جان کی فکر تھی بلکہ ان کو یہ خیال تھا کہ منصب رسالت کی بجا آوری میں کہیں اس کا اثر اچھا نہ پڑے )۔ البدر جلد ۲ نمبر ۳۳ مورخه ۴ ستمبر ۱۹۰۳ صفحه ۳۵۸) فَلَمَّا جَاءَهُمْ مُوسَى بِأَيْتِنَا بَيِّنَتٍ قَالُوا مَا هَذَا إِلَّا سِحْرُ مُفْتَرَى وَمَا سَمِعْنَا بِهَذَا فِي أَبَابِنَا الْأَوَّلِينَ ۔ مَا سَمِعْنَا بِهَذَا فِي أَبَا بِنَا الأَوَّلِينَ ۔۔۔۔ ہم نے اپنے بزرگوں میں یعنی اولیاء سلف میں یہ نہیں سنا۔ ( براہین احمد یہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۶۷۰) ان کی بد قسمتی یہ ہے کہ جب ان کو وہ اصل اسلام جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے تھے پیش تھے پیش کیا جاتا ہے اور قرآن شریف کے ساتھ ثابت کر کے دکھایا جاتا ہے کہ تم غلطی پر ہو تو کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے باپ دادا اسی طرح مانتے آئے ہیں مگر میں کہتا ہوں کہ کیا اتنی بات کہہ کر یہ اپنے آپ کو بری کر سکتے ہیں؟