تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 320
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲۰ سورة الانبياء الهَتَكُمْ وَهُمْ بِذِكْرِ الرَّحْمَنِ هُمْ كَفِرُونَ ) إِن يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُوا اور تجھے انہوں نے ایک ہنسی کی جگہ بنا رکھا ہے۔ انجام آتھم ، روحانی خزائن جلد ا ا صفحه ۵۷) کرو۔ خُلِقَ الْإِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ سَأُورِيكُمُ ايَتِي فَلَا تَسْتَعْجِلُونَ ) ( ترجمه از مرتب ) انسان کی فطرت میں جلدی ہے۔ عنقریب میں تم کو اپنے نشان دکھلاؤں گا ۔ سو تم مجھ سے جلدی تو مت ( براہین احمد یہ چہار قصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۴۵ حاشیہ نمبر ۱۱) وَ يَقُولُونَ مَتَى هُذَا الْوَعْدُ إِنْ كُنْتُمْ صَدِقِينَ ۔ یعنی کافر پوچھتے ہیں کہ یہ دعویٰ پورا کب ہو گا اگر تم سچے ہو تو تاریخ عذاب بتاؤ۔ ( براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۲۵۳) قُلْ مَنْ يَكْلَؤُكُمْ بِأَلَّيْلِ وَالنَّهَارِ مِنَ الرَّحْمَنِ بَلْ هُمْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهِمُ مُعْرِضُونَ یعنی ان کافروں اور نافرمانوں کو کہہ کہ اگر خدا میں صفت رحمانیت کی نہ ہوتی تو ممکن نہ تھا کہ تم اس کے عذاب سے محفوظ رہ سکتے یعنی اسی کی رحمانیت کا اثر ہے کہ وہ کافروں اور بے ایمانوں کو مہلت دیتا ہے اور جلد تر نہیں پکڑتا ۔ ( براہین احمد یہ چہار تخصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۴۴۹ حاشیه (۱۱) بَلْ مَتَّعْنَا هَؤُلَاءِ وَآبَاءَهُمْ حَتَّى طَالَ عَلَيْهِمُ الْعُمُرُ أَفَلَا يَرَوْنَ أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا أَفَهُمُ الْغَلِبُونَ ) طاعون کے متعلق بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ اکثر غریب مرتے ہیں اور امراء اور ہمارے بڑے بڑے مخالف ابھی تک بچے ہوئے ہیں لیکن سنت اللہ یہی ہے کہ ائمہ الکفراخیر میں پکڑے جایا کرتے ہیں ۔ چنانچہ حضرت موسیٰ کے وقت جس قدر عذاب پہلے نازل ہوئے ان سب میں فرعون بچا رہا۔