تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 321 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 321

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲۱ سورة الانبياء چنانچہ قرآن شریف میں بھی آیا کہ نَأْتِي الْأَرْضَ تَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا یعنی ابتدا عوام سے ہوتا ہے اور پھر خواص پکڑے جاتے ہیں اور بعض کے بچانے میں اللہ تعالیٰ کی یہ حکمت بھی ہوتی ہے کہ انہوں نے آخر میں تو بہ کرنی ہوتی ہے یا ان کی اولاد میں سے کسی نے اسلام قبول کرنا ہوتا ہے۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۱۵ مورخه ۲۴ را پریل ۱۹۰۲ صفحه ۷) خلاصہ کلام یہ کہ سنت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ جب کوئی خدا کی طرف سے آتا ہے اور اس کی تکذیب کی جاتی ہے تو طرح طرح کی آفتیں آسمان سے نازل ہوتی ہیں جن میں اکثر ایسے لوگ پکڑے جاتے ہیں جن کا اس تکذیب سے کچھ تعلق نہیں ۔ پھر رفتہ رفتہ ائمۃ الکفر پکڑے جاتے ہیں اور سب سے آخر بڑے شریروں کا وقت آتا ہے۔ اسی کی طرف اللہ تعالیٰ اس آیت میں اشارہ فرماتا ہے اَنَّا نَاتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا یعنی ہم آہستہ آہستہ زمین کی طرف آتے جاتے ہیں اس میرے بیان میں ان بعض نادانوں کے اعتراضات کا جواب آگیا ہے جو کہتے ہیں کہ تکفیر تو مولویوں نے کی تھی اور غریب آدمی طاعون سے مارے گئے۔ (حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۶۶) وَهُذَا ذِكْرٌ مُبْرَكَ اَنْزَلْتُهُ أَفَانْتُمْ لَهُ مُنْكِرُونَ (۵۱) قرآن شریف صرف سماع کی حد تک محدود نہیں ہے کیونکہ اس میں انسانوں کے سمجھانے کے لئے بڑے بڑے معقول دلائل ہیں اور جس قدر عقائد اور اصول اور احکام اس نے پیش کئے ہی ان میں سے کوئی بھی ایسا امر نہیں جس میں زبر دستی اور تحکم ہو جیسا کہ اس نے خود فرمادیا کہ یہ سب عقائد وغیرہ انسان کی فطرت میں پہلے سے منقوش ہیں اور قرآن شریف کا نام ذکر رکھا ہے جیسا کہ فرماتا ہے هذا ذكر مبرك یعنی یہ قرآن با برکت کوئی نئی چیز نہیں لایا بلکہ جو کچھ انسان کی فطرت اور صحیفہ قدرت میں بھرا پڑا ہے اس کو یاد دلاتا ہے۔ اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۳۳) قُلْنَا يُنَارُ كُونِي بَرْدًا وَ سَلَمَا عَلَى ابْرَاهِيمَ ۔ اگر خدائے تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور ربوبیت تامہ کو قوانین محدودہ محصورہ میں ہی منحصر سمجھا جائے تو جس چیز کو غیر محدود تسلیم کیا گیا ہے اس کا محدود ہونا لازم آجائے گا۔ پس برہمو سماج والوں کی یہی بھاری غلطی ہے کہ وہ خدائے تعالیٰ کی غیر متناہی قدرتوں اور ربوبیتوں کو اپنے تنگ اور منقبض تجارب کے دائرہ میں گھسیٹڑ نا چاہتے ہیں