تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 319 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 319

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۱۹ سورة الانبياء رابطہ محبت قوی ہوتا ہے اور کسی کا اقوئی ۔ اور کسی کا اس قدر کہ دنیا اس کو شناخت نہیں کر سکتی اور کوئی عقل اس کے انتہا تک نہیں پہنچ سکتی اور وہ اپنے محبوب از لی کی محبت میں اس قدر محو ہوتے ہیں کہ کوئی رگ وریشہ ان کی ہستی اور وجود کا باقی نہیں رہتا اور یہ تمام مراتب کے لوگ بموجب آیت كُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ اپنے دائرہ استعداد فطرت سے زیادہ ترقی نہیں کر سکتے اور کوئی ان میں سے اپنے دائرہ فطرت سے بڑھ کر کوئی نور حاصل نہیں کر سکتا اور نہ کوئی روحانی تصویر آفتاب نورانی کی اپنی فطرت کے دائرہ سے بڑھ کر اپنے اندر لے سکتا ہے اور خدا تعالیٰ ہر ایک کی استعداد فطرت کے موافق اپنا چہرہ اس کو دکھا دیتا ہے اور فطرتوں کی کمی بیشی کی وجہ سے وہ چہرہ کہیں چھوٹا ہوجاتا ہے اور کہیں بڑا۔ (حقیقة الوحی ، رحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۸،۲۷) وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ - أَفَائِنُ مِتَّ فَهُمُ الْخَلِدُونَ ۔ یعنی ہم نے تجھ سے پہلے کسی بشر کو ہمیشہ زندہ اور ایک حالت پر رہنے والا نہیں بنایا پس کیا اگر تو مر گیا تو یہ لوگ باقی رہ جائیں گے۔ اس آیت کا مدعا یہ ہے کہ تمام لوگ ایک ہی سنت اللہ کے نیچے داخل ہیں اور اور کوئی کہ موت سے بچا نہیں اور نہ آئندہ بچے گا اور لغت کے رو سے خلود کی مفہوم میں یہ بات داخل ہے کہ ہمیشہ ایک ہی حالت میں رہے کیونکہ تغییر موت اور زوال کی تمہید ہے۔ پس نفی خلود سے ثابت ہوا کہ زمانہ کی تاثیر سے ہر ایک شخص کی موت کی طرف حرکت ہے اور پیرانہ سالی کی طرف رجوع اور اس سے مسیح ابن مریم کا بوجہ امتداد زمانہ اور شیخ فانی ہو جانے کے باعث سے فوت ہو جانا ثابت ہوتا ہے۔ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۲۸،۴۲۷) كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ وَ نَبْلُوكُم بِالشَّرِّ وَ الْخَيْرِ فِتْنَةً وَ إِلَيْنَا ودرودر ترجعون ۔ یعنی ہر نفس موت کا مزہ چکھے گا اور پھر ہماری طرف واپس کئے جاؤ گے۔ ( براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۳۸۵ حاشیه ) وَ إِذَا رَاكَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُوًا أَهْذَا الَّذِي يَذْكُرُ