تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 232 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 232

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۳۲ سورة الكهف 2 التَّوْهِينِ وَقَدْ أَشَارَ اللهُ في كَثِيرٍ من قیدیوں کی طرح زندگی بسر کریں گے اور تفرقہ اور الْمَقَامِ أَنَّ تِلْكَ الأَيَّامِ أَيَّامُ الْغُرْبَةِ پراگندگی کی ہوائیں اُن کے سر پر چلیں گی۔ پس وہ لِلْإِسْلَامِ، وَهُنَاكَ يَكُونُ الْمُسْلِمُونَ بکھر جائیں گے اور پراگندہ ہو جائیں گے اور كَالْمَحْصُورِينَ، وَتَهُبْ عَلَيْهِمْ عَوَاصِفُ بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ سے مراد یہ ہے کہ التَّفْرِقَةِ فَيَكُونُونَ كَعِضِيْنَ فَأَمَّا قَوْلُهُ | ایک فرقہ دوسرے فرقہ کو کھا جائے گا اور یا جوج و ماجوج بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ فَيُرِيدُ سر بلندی پائیں گے اور تمام سطح زمین پر ان کے نکلنے مِنْهُ أَنَّ فِرْقَةً تَأْكُلُ فِرْقَةً أُخْرَى، وَتَعْلُو کی خبریں سننے میں آئیں گی اور اُن دنوں میں اسلام يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَتَسْمَعُونَ أَخْبَارَ بوڑھی عورت کی طرح ہوگا اور اُس میں کسی طرح کی خُرُوجِهِمْ فِي الْأَرْضِينَ۔ وَفِي تِلْكَ الأَيَّامِ لَا قوت اور عزت نہیں رہے گی اور ذلت پر ذلت اُس کو يَكُونُ الْإِسْلَامُ إِلَّا كَعَجُوزَةٍ، وَلَا يَبْقَى لَهُ پہنچے گی اور قریب ہوگا کہ بغیر تجہیز و تکفین کے زمین میں مِنْ قُوَّةٍ وَلَا مِنْ عِزَّةٍ، وَتُصِيبُهُ ذِلَّةٌ عَلَى ذِلَّةٍ، گاڑ دیا جائے اور ایسی مصیبتیں اس کے سر پر پڑیں گی وَكَادَ أَنْ يُقْبَرَ مِنْ غَيْرِ التَّجْهِيزِ وَالتَّكْفِينِ، کہ پہلے زمانہ میں کسی کان نے اس جیسا نہ سنا ہوگا اور وَتُصَبُّ عَلَيْهِ مَصَائِبُ مَا سَمِعَتْ أُذُنٌ دین میں سے گروہ در گروہ جاہل لوگ لعنت کرتے مِثْلَهَا مِنْ قَبْلُ، وَيَخْرُجُ مِنَ الدِّينِ أَفْوَاجُ ہوئے اور تکذیب کرتے ہوئے نکل جائیں گے اور مِنَ الْجَاهِلِينَ، لَا عِنِينَ وَمُحَقِّرِينَ وَمُكَذِّبِينَ تمام امور زیر و زبر کیے جائیں گے اور شریعت اور وَتُقْلَبُ الْأُمُورُ كُلُّهَا، وَتَنْزِلُ الْمَصَائِبُ عَلَى شریعت والوں پر رنج اور مصیبتیں اُتریں گی اور اُس الشَّرِيعَةِ وَأَهْلِهَا، وَيُرَدُّ قَمَرُهَا كَعُرُجُون کا چاند دیکھنے والوں کی نظر میں پرانی ٹہنی کی طرح قَدِيمٍ فِي أَعْيُنِ النَّاظِرِينَ، وَهَذِهِ ذِلَّةٌ مَّا نظر آئے گا اور یہ وہ ذلت ہے کہ اس سے پہلے ملت کو أَصَابَتِ الْمِلَّةَ مِنْ قَبْلُ وَلَنْ تُصِيبَ إِلى نہیں پہنچی اور قیامت تک نہیں پہنچے گی ۔ جب اس حد يَوْمِ الدِّينِ۔ فَعِنْدَ ذَالِكَ تَنْزِلُ النُّصْرَةُ مِن تک معاملہ پہنچ جاوے گا تب آسمان سے نصرت اور السَّمَاءِ وَمَعَالِمُ الْعِزَّةِ مِنْ حَضْرَةِ الْكِبْرِيَاء ، خدا تعالیٰ کی طرف سے بغیر تلوار اور بغیر نیزے اور مِنْ غَيْرِ سَيْفٍ وَسِنَانٍ وَمُحَارِبِينَ وَإِلَيْهِ لڑنے والوں کے عزت کے نشان اُتریں گے ۔ اور إِشَارَةٌ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى وَنُفِخَ فِي الصُّورِ اِس کی طرف خدا تعالیٰ کے اس قول میں اشارہ ہے : سو