تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 229
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۹ سورة الكهف وَلَكِنَّهُمْ قَوْمٌ مُفْسِدُونَ بَطَالُونَ، لیکن یا جوج ماجوج ایک مفسد باطل پرست قوم ہے لہذا وہ فَكَيْفَ يَجُوزُ أَنْ يَكُونُوا مِنْ أَهْلِ اہلِ اسلام سے نہیں ہوسکتی۔ پس یقیناً ثابت ہوا کہ وہ قوم الْإِسْلَامِ : فَتَقَرَّرَ بِالْقَطْعِ أَنَّهُمْ يَكُونُونَ نصاری سے ہیں اور دین نصاری پر ہیں ۔ مِنَ النِّصَارَى وَعَلَى دِينِ النَّصَارَى (حمامة البشرى ، روحانی خزائن جلدی صفحه ۲۱۳، ۲۱۴ حاشیہ) 2 ( ترجمه از مرتب ) وَأَمَّا الْأَفَاتُ الَّتِي قُدِرَ ظُهُورُهَا فِي اور وہ آفات جن کا ظہور مسیح موعود کے وقت کے لئے مقدر تھا وَقْتِ الْمَسِيحِ فَمِنْ أَعْظَمِهَا خُرُوجُ ان میں سے سب سے بڑی آفت یا جوج و ماجوج اور بے شرم يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ وَخُرُوجُ الدَّجَّالِ دجال کا خروج ہے اور وہ مسلمانوں کے لئے فتنہ ہیں جبکہ الْوَقِيحِ، وَهُمْ فِتْنَةٌ لِلْمُسْلِمِينَ عِنْدَ مسلمانوں نے خدا تعالیٰ کی نافرمانی کی اور خدائے ورود سے عِصْيَانِهِمْ وَفِرَارِهِمْ مِنَ اللهِ الْوَدُودِ انحراف کیا۔ اور یہ ایک بڑی بلا ہے جو مسلمانوں پر اس طرح وَبَلَاءُ عَظِيمٌ سُلْطَ عَلَيْهِمْ كَمَا سُلِّط مسلط کی گئی ہے جس طرح یہود پر مسلط کی گئی تھی اور جان لو کہ عَلَى الْيَهُودِ وَاعْلَمُ أَنَّ يَأْجُوجَ یا جوج اور ماجوج دو ایسی قومیں ہیں جو اپنی لڑائیوں میں نیز وَمَأْجُوجَ قَوْمَانِ يَسْتَعْمَلُونَ النَّارَ مصنوعات میں آگ اور اس کے شعلوں کا استعمال کرتی ہیں وَأَجِيجَهُ فِي الْمُحَارَبَاتِ وَغَيْرِهَا مِنَ اور اسی بنا پر ان دونوں کے یہ نام رکھے گئے ہیں کیونکہ اجیج الْمَصْنُوعَاتِ، وَلِذَالِكَ سُمُوا بِهَذَيْنِ آگ کی صفت ہے اور اسی طرح ان کی جنگ آتشیں اسلحہ کے الْإِسْمَيْنِ، فَإِنَّ الْأَجِيجَ صِفَةُ النَّارِ ذریعہ ہوتی ہے اور اسی طریق سے وہ تمام زمین والوں پر جنگ وَكَذَالِكَ يَكُونُ حَرْبُهُم بِالْمَوَادِ میں غالب آ رہے ہیں اور وہ ہر بلندی سے پھلانگتے پھرتے النَّارِيَاتِ، وَيَفُوقُوْنَ كُلَّ مَنْ فِي ہیں انہیں نہ کوئی سمندر روک رہا ہے اور نہ کوئی پہاڑ۔ بادشاہ ان الْأَرْضِ بِهَذَا الطَّرِيقِ مِنَ الْقِتَالِ، وَ کے سامنے خوف کے مارے سر بسجود ہو جاتے ہیں اور کسی کو ان هُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ ، وَلا سے مقابلہ کی طاقت نہیں اور وہ بادشاہ موعود وقت تک ان کے يمنعُهُمْ بَحرُ وَلَا جَبَلْ مِنَ الْجِبَالِ پاؤں تلے روندے جائیں گے اور جو شخص ان دونوں پتھروں وَيَخِرُ الْمُلُوكُ أَمَامَهُمْ خَائِفِينَ، وَلا کے درمیان آجائے گا خواہ وہ کتنا بڑا بادشاہ ہی کیوں نہ ہو وہ اس الانبياء : ۹۷ کے