تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 173
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۷۳ سورة بني اسراءيل میں سے کسی معجزہ کا انکاری ہو اور اپنی کتاب الہامی میں زور مقابلہ خیال کرتا ہو تو ہم حسب فرمائش اس کے کوئی قسم اقسام معجزات ذاتیہ قرآن شریف میں سے تحریر کر کے کوئی مستقل رسالہ شائع کر دیں گے پھر اگر اس کی الہامی کتاب قرآن شریف کا مقابلہ کر سکے تو اسے حق پہنچتا ہے کہ تمام معجزات قرآنی سے منکر ہو جائے اور جو شرط قرار دی جائے ہم سے پوری کرلے۔ (سرمه چشم آریہ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۲۷۴، ۲۷۵) علاوہ اس کمال خاص قرآن کے کہ وہ وحی متلو ہے محفوظیت کی رو سے بھی حدیثوں کو قرآن کریم سے کیا نسبت ہے۔ قرآن کریم کی جیسا کہ اس کی بلاغت و فصاحت وحقائق و معارف کی رو سے کوئی چیز مثل نہیں ٹھہر سکتی ایسا ہی اس کی صحت کاملہ اور محفوظیت اور لاریب فیہ ہونے میں کوئی چیز اس کی مثیل نہیں کیونکہ اس کے الفاظ و ترتیب الفاظ اور محفوظیت تامہ کا اہتمام خدائے تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے لیا ہے اور ماسوا اس کے حدیث ہو یا قول کسی صحابی کا ہو ان سب کا اہتمام انسانوں نے کیا ہے جو سہو اور نسیان سے بری نہیں رہ سکتے اور ہرگز وہ لوگ محفوظیت تامہ اور صحت کاملہ میں احادیث اور اقوال کو مثل قرآن نہیں بنا سکتے تھے اور یہ عجز ان کا اس آیت کریمہ کے اعجازات پیش کردہ میں داخل ہے قُلْ لَبِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنْسُ وَالْجِنُّ عَلَى أَنْ يَأْتُوا بِمِثْلِ هُذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَھیرا جب ہر ایک بات میں مثل قرآن ممتنع ہے تو کیوں کر وہ لوگ احادیث کو صحت اور محفوظیت میں مثل قرآن بنا سکتے ہیں۔ (ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۶۱۵ ، ۶۱۶ ) أَلَسْتَ تَعْلَمُ أَنَّ الْقُرْآنَ مَا ادَّعَى إِعْجَازَ کیا تجھے معلوم نہیں کہ قرآن نے اعجاز بلاغت کا الْبَلاغَةِ إِلَّا فِي الرِّيَاغَةِ، فَإِنَّ الْعَرَبَ في دعوئی کشتی گاہ کے میدان میں کیا ہے کیونکہ عرب اس کے زَمَانِهِ كَانُوا فَصَحَاءِ الْعَصْرِ وَبُلَغَاءَ الدَّهْرِ، زمانہ میں فصحاء عصر اور بلغاء دہر تھے اور ان کے باہم فخر وَكَانَ مَدَارُ تَفَاخُرِهِمْ عَلَى غُرَرِ الْبَيَانِ کرنے کا مدار فصیح اور با آب و تاب تقریروں پر تھا اور وَدُرَرِهِ وَثِمَارِ الْكَلَامِ وَزَهْرِهِ، وَكَانُوا نیز کلام کے پھلوں اور پھولوں پر ناز کرتے تھے۔ اور يُنَاضِلُونَ بِالْقَصَائِدِ الْمُبْتَكَرَةِ وَالْخُطُبِ ان کی لڑائیاں نو ایجاد قصیدوں اور پاکیزہ خطبوں کے الْمُحَبَّرَةِ، وَلكِنْ مَّا كَانَ لَهُمْ أَنْ يَتَكَلَّمُوا فِي ساتھ ہوتی تھیں مگر ان کو لطائف حکمیہ میں بات کرنے کا اللَّطَائِفِ الْحِلْمِيَّةِ، وَمَا مَسَّتْ بَيَانَهُمُ سلیقہ نہ تھا اور ان کے بیان کو معارف الہیہ کی بو بھی نہیں رَائِحَةُ الْمَعَارِفِ الْإِلَهِيَّةِ ، بَلْ كَانَ مَسْرَحُ پہنچتی تھی بلکہ ان کے فکروں کا چراگاہ صرف عشقیہ