تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 174 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 174

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۷۴ سورة بنى اسراءيل أَفْكَارِهِمْ إِلَى الْأَبْيَاتِ الْعِشْقِيَّةِ، شعروں اور ہنسانے والے اور غافل کرنے والے بیتوں وَالْأَضَاحِيكِ الْمُلْهِيَةِ، وَمَا كَانُوا عَلَی تک تھا اور مضامین حکمیہ کی مرصع نگاری پر وہ قادر نہ تھے تَرْصِيعِ مَضَامِيْنِ الْحِكَمِ قَادِرِينَ، وَكَانُوا حالانکہ وہ ایک زمانہ سے نظم اور نثر اور لطائف بیان کے قَدْ مَرَنُوا مِنْ سِنِينَ عَلى أَنْوَاعِ النَّظْمِ مشتاق تھے اور اپنے ہم جنسوں میں مسلم اور مقبول تھے وَالنَّثْرِ وَلَطَائِفِ الْبَيَانِ، وَسُلِّمُوا وَقُبِلُوا اور اہل زبان اور میدانوں میں سبقت کرنے والے تھے فِي الْأَقْرَانِ، وَكَانُوا أَهْلَ اللِّسَانِ وَسَوَابِقَ پس خدا تعالیٰ نے ان کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اگر تمہیں الْمَيَادِينِ فَخَاطَبَهُمُ اللهُ وَقَالَ اِنْ كُنْتُم اس کلام میں شک ہو جو ہم نے اپنے بندہ پر اتارا ہے تو تم فِي رَيْبٍ مِمَّا نَزَّلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةِ بھی کوئی سورت اس کی مانند بنا کر لاؤ اور اگر بنانہ سکو اور مِنْ مِثْلِهِ فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا وَ لَنْ تَفْعَلُوا فَاتَّقُوا یا د رکھو کہ ہرگز بنا نہیں سکو گے سو اس آگ سے ڈرو جس النَّارَ الَّتِي وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ کے هیزم افروختنی آدمی اور پتھر ہیں اور وہ آگ کافروں أُعِدَّتْ لِلْكَفِرِينَ ، وَقَالَ قُلْ لَبِنِ اجْتَمَعَتِ کے لئے طیار کی گئی ہے اور فرمایا کہ اگر تمام جن وانس اس الْإِنْسُ وَالْجِنُّ عَلَى أَنْ يَأْتُوا بِمِثْلِ هذا بات کے لئے اکٹھے ہو جائیں کہ اس قرآن کی کوئی مثل بنا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَ لَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لاویں تو ہر گز نہیں لاسکیں گے اگر چہ ایک دوسرے کی مدد لِبَعْضٍ ظَهِيرًا فَعَجِزَ الْكُفَّارُ عَنِ الْمُقَابَلَةِ بھی کریں ۔ پس کفار مقابلہ سے عاجز آگئے اور مغلوب وَوَلَّوا النُّبُرَ كَالْمَغْلُوبِيْنَ ہو کر پیٹھیں پھیر لیں۔ ( ترجمہ اصل کتاب سے ) نور الحق حصہ اول، روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۱۴۵ تا ۷ (۱۴) اگر جن اور انس سب اس بات پر اتفاق کریں کہ اگر اور کتاب جو کمالات قرآنی کا مقابلہ کر سکے پیش کریں تو نہیں پیش کر سکیں گے اگر چہ وہ ایک دوسرے کی مدد بھی کریں۔ جنگ مقدس، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه (۸۶) اگر جن وانس اس بات پر اتفاق کرلیں کہ اس قرآن کی نظیر بناویں تو ہرگز بنا نہیں سکیں گے اگر چہ وہ ایک دوسرے کی مدد بھی کریں ۔ بعض نادان ملا اخْزَاهُمُ الله کہا کرتے ہیں کہ یہ بے نظیری صرف بلاغت کے متعلق ہے لیکن ایسے لوگ سخت جاہل اور دلوں کے اندھے ہیں اس میں کیا کلام ہے کہ قرآن کریم اپنی بلاغت البقرة : ۲۴، ۲۵