تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 172
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۷۲ سورة بني اسراءيل ایک نیک بخت روح یا بد بخت روح کے کشف قبور کے طور پر ہو سکتی ہے چنانچہ خود اس میں مؤلف رسالہ ہذا صاحب تجربہ ہے۔ سرمه چشم آریه، روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۱۷۷، ۱۷۸ حاشیہ ) قُلْ لَبِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلَى أَنْ يَأْتُوا بِمِثْلِ هُذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا ٨٩ ان کو کہہ کہ اگر تمام جن اور آدمی اس بات پر اتفاق کریں کہ قرآن جیسی کوئی اور کتاب بنالاویں تو وہ کبھی بنا نہیں سکیں گے اگر چہ بعض بعض کے مددگار بھی ہوں ۔ براہین احمد یہ چہار قصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۴۳ ، ۲۴۴ حاشیہ نمبر ۱۱) ان کو کہہ دے کہ اگر تمام جن اور آدمی اس بات پر اتفاق کر لیں کہ قرآن کی مثل کوئی کلام لاویں تو یہ بات ان کے لئے ممکن نہیں۔ اگر چہ وہ ایک دوسرے کے مدد گار بھی بن جاویں۔ براہین احمدیہ : احمد یہ چہار تخصص، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۴۷۳ حاشیه در حاشیہ نمبر ۳) ان کو کہہ دے کہ اگر تمام جن متفق ہو جائیں اور ساتھ ہی بنی آدم بھی اتفاق کر لیں اور سب مل کر یہ چاہیں کہ مثل اس قرآن کے کوئی اور قرآن بناویں تو ان کے لئے ہر گز ممکن نہیں ہوگا۔ اگر چہ ایک دوسرے کے مددگار بن جائیں۔ ( براہین احمد یہ چہار تخصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۵۸۵ ) ان منکرین کو کہہ دے کہ اگر تمام جن وانس یعنی تمام مخلوقات اس بات پر متفق ہو جائے کہ اس قرآن کی کوئی مثل بنانی چاہیے تو وہ ہرگز اس بات پر قادر نہیں ہوں گے کہ ایسی ہی کتاب انہیں ظاہری باطنی خوبیوں کی جامع بناسکیں۔ اگر چہ وہ ایک دوسرے کی مدد بھی کریں۔ سرمه چشم آریہ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۶۱ حاشیه ) ان کو کہہ دے کہ اگر سب جن وانس اس بات پر متفق ہو جائیں کہ قرآن کی کوئی نظیر پیش کرنی چاہیے تو ممکن نہیں کہ کر سکیں اگر چہ بعض بعضوں کی مدد بھی کریں۔ اور جو کچھ قرآن شریف کے ذاتی معجزات اس جگہ ہم نے تحریر کئے ہیں اگر کسی آریہ وغیرہ کو اپنے دل میں کچھ گھمنڈ یا سر میں کچھ غرور ہو اور خیال ہو کہ یہ معجزہ نہیں ہے بلکہ وید یا اس کی کوئی اور کتاب جس کو وہ الہامی سمجھتا ہے اس کا مقابلہ کر سکتی ہے تو اسے اختیار ہے کہ آزما کر دیکھ لے اور ہم وعدہ کرتے ہیں کہ اگر کوئی مخالف ممتاز اور ذی علم لوگوں میں سے ان معجزات قرآنیہ