تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 171 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 171

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۷۱ سورة بني اسراءيل غرض ہمارے پاس تو ہمارے دعوے کا ثبوت ہے۔ ثابتہ سچائی سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اصل میں ان پھلوں میں ایک قسم کا مادہ اندر ہی اندر موجود ہوتا (ہے) جو پھل کے نشوونما کے ساتھ ساتھ نشو و نما کرتا اور ترقی پاتا ہے۔ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۵ مورخه ۳۰ رمئی ۱۹۰۸ صفحه ۶،۵ ) روح تین قسم کی ہوتی ہے روح نباتی ، روح حیوانی ، روح انسانی ۔ ان تینوں کو ہم برابر نہیں مانتے ۔ ان میں سے حقیقی زندگی کی وارث اور جامع کمالات صرف انسانی روح ہے باقی حیوانی اور نباتی روح میں بھی ایک قسم کی زندگی ہے مگر وہ انسانی روح کی برابری نہیں کر سکتی۔ نہ ویسے مدارج حاصل کر سکتی ہے نہ کمالات میں انسانی روح کی برابری کر سکتی ہے کچھ تشابہ ہو تو اس بار یک بحث میں ہم پڑنا مناسب نہیں سمجھتے ۔ ہو سکتا ہے کہ بعض خاص خاص صفات میں یہ روحیں انسانی روح سے مشابہت رکھتی ہوں مگر جس طرح انسان میں اور ان میں ظاہری اختلاف اور فرق ہے اسی طرح اختلاف روحانی بھی پایا جاتا ہے۔ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۵ مورخه ۳۰ مئی ۱۹۰۸ ء صفحه ۶) نظر کشفی میں کچھ ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ تمام ارواح اور اجسام کلمات اللہ ہی ہیں جو بحکمتِ کاملہ الہی پیرا یہ حدوث ومخلوقیت سے متلبس ہو گئے ہیں مگر اصل محکم جس پر قدم مارنا اور قائم رہنا ضروری ہے یہ ہے کہ ان کشفیات و معقولات سے قدر مشترک لیا جائے یعنی یہ کہ خدائے تعالیٰ ہر ایک چیز کا خالق اور محدث ہے اور کوئی چیز کیا ارواح اور کیا اجسام بغیر اس کے ظہور پذیر نہیں ہوئی اور نہ ہو سکتی ہے کیونکہ کلام الہی کی عبارت اس جگہ در حقیقت ذو الوجوہ ہے اور جس قدر قطع اور یقین کے طور پر قرآن شریف ہدایت کرتا ہے وہ یہی ہے کہ ہر ایک چیز خدا تعالیٰ سے ظہور پذیر و وجود پذیر ہوئی ہے اور کوئی چیز بغیر اس کے پیدا نہیں ہوئی اور نہ خود بخود ہے۔ سرمه چشم آریہ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۱۷۴، ۱۷۵ حاشیه ) روحوں کی پیدائش پر انسان کیوں تعجب کرے۔ اسی دنیا میں صاحب کشف پر ایسے ایسے اسرار ظاہر ہوتے ہیں کہ ان کی کنہ کو سمجھنے میں بکلی عقل عاجز رہ جاتی ہے۔ بعض اوقات صاحب کشف صدہا کوسوں کے فاصلہ سے باوجود حائل ہونے بے شمار حجابوں کے ایک چیز کو صاف صاف دیکھ لیتا ہے بلکہ بعض اوقات عین بیداری میں باذنہ تعالیٰ اس کی آواز بھی سن لیتا ہے اور اس سے زیادہ تر تعجب کی یہ بات ہے کہ بعض اوقات وہ شخص بھی اس کی آواز سن لیتا ہے جس کی صورت اس پر منکشف ہوئی ہے بعض اوقات صاحب کشف اپنے عالم کشف میں جو بیداری سے نہایت مشابہ ہے ارواح گذشتہ سے ملاقات کرتا ہے اور عام طور طور پر ملاقات ہر