تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 146 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 146

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۶ سورة بنى اسراءيل ہیں وہ قیامت کو بھی اندھے ہی ہوں گے بلکہ اس کا مفہوم یہی ہے کہ خدا کو ڈھونڈ نے والوں کے دل نشانات سے ایسے منور کئے جاتے ہیں کہ وہ خدا کو دیکھ لیتے ہیں اور اس کی عظمت و جبروت کا مشاہدہ کرتے ہیں یہاں تک کہ دنیا کی ساری عظمتیں اور بزرگیاں ان کی نگاہ میں بیچ ہو جاتی ہیں ۔ اور اگر خدا کو دیکھنے کی آنکھیں اور سکے گا۔ اس کے دریافت کرنے کے حواس سے اس دنیا میں اس کو حصہ نہیں ملا تو اس دوسرے عالم میں بھی نہیں دیکھ الحکم جلد ۵ نمبر ۴۴ مورخه ۳۰ نومبر ۱۹۰۱ء صفحه ۱۲ والحکم جلد ۵ نمبر ۴۵ مورخه ۱۰ دسمبر ۱۹۰۱ صفحه ۱) گناہ کے آثار تاریکی اور ظلمت تو اس دنیا ہی میں شروع ہو جاتی ہے جیسے فرمایا مَنْ كَانَ فِي هَذِهِ اعْلى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْلَى - الحکم جلد ۲ نمبر ۲۴، ۲۵ مورخه ۲۰ و ۲۷ اگست ۱۸۹۸ء صفحه ۱۱) اگر انسان اندریں عالم تکمیل معرفت نکند اگر انسان اس عالم میں معرفت کی تکمیل نہیں کرتا تو اس چه دلیل دارد که در روز آخرت خواهد کرد بجز کے پاس کیا دلیل ہے کہ آخرت میں (اپنی معرفت کی تکمیل ) این صورت که که ما پیش می کنیم دیگر صورت کرلے گا سوائے اس صورت کے جو ہم پیش کرتے ہیں اور نیست مَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْلَى فَهُوَ فِي کوئی صورت نہیں ۔ مَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْلى الْآخِرَةِ أَعْلى ( ترجمه از مرتب ) البدر جلد نمبر ۶،۵ مورخه ۲۸ نومبر و ۱۵ دسمبر ۱۹۰۲ ء صفحه ۳۶) عالم آخرت در حقیقت دنیوی عالم کا ایک عکس ہے اور جو کچھ دنیا میں روحانی طور پر ایمان اور ایمان کے نتائج اور کفر اور کفر کے نتائج ظاہر ہوتے ہیں وہ عالم آخرت میں جسمانی طور پر ظاہر ہو جائیں گے۔ اللہ جل شانہ فرماتا ہے مَنْ كَانَ فِي هَذِهِ اعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ اَعْلٰی یعنی جو اس جہان میں اندھا ہے وہ اس جہان میں بھی اندھا ہی ہوگا۔ الحکم جلد ۷ نمبر ۲۲ مورخہ ۷ ارجون ۱۹۰۳ء صفحہ ۱) رے عالم کے جو اس دنیا میں اندھا ہے وہ آخرت میں بھی اندھا ہو گا کیا مطلب کہ خدا تعالیٰ اور دوسرے لذات کے دیکھنے کے لئے اسی جہان میں حواس اور آنکھیں ملتی ہیں جس کو اس جہان میں نہیں ملیں اس کو وہاں بھی نہیں ملیں گی ۔ اب یہ امر انسان کو اس طرف متوجہ کرتا ہے کہ انسان کا فرض ہے کہ وہ ان حواس اور آنکھوں کے حاصل کرنے کے واسطے اسی عالم میں کوشش اور سعی کرے تا کہ دوسرے عالم میں بینا اُٹھے۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۱۱ مورخه ۲۴ مارچ ۱۹۰۲ صفحه ۳) بن بڑی دولت ہے پس اندھا وہی ہے جس کو اس دنیا میں خدا پر پورا یقین حاصل نہیں ہوا۔ خدا پر یقین ! یقین الحکم جلد ۶ نمبر ۳۸ مورخه ۲۴ اکتوبر ۱۹۰۲ء صفحه ۶)