تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 147 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 147

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۷ سورة بنى اسراءيل اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ ہر اندھا اور نابینا قیامت کو بھی اندھا اور نابینا اُٹھے بلکہ اس سے مراد معرفت اور بصیرت کی نابینائی ہے۔ الحکم جلدے نمبر ۴ مورخه ۳۱ جنوری ۱۹۰۳ء صفحه ۳) مَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ اَعْلٰی سے ظاہر ہے کہ دیدار کا وعدہ یہاں بھی ہے مگر ہم اسے جسمانیات پر نہیں حمل کر سکتے ۔ البدر جلد ۲ نمبر ۵ مورخه ۲۰ رفروری ۱۹۰۳ء صفحه ۳۸) خدا تعالیٰ نے انسان کے نفس میں معرفت کی پیاس رکھ دی ہے اور خود ہی فرمایا ہے مَنْ كَانَ فِي هَذِهِ اعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ اَعْنى - ادھر یہ کہا ادھر مکالمہ کا دروازہ بند ہوا تو پھر تو خدا نے دیدہ دانستہ اعلی رکھنا چاہا اور پھر وَ الَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ( العنكبوت : ۷۰) کے کیا معنی ہوئے ۔ البدر جلد ۲ نمبر ۱۳ مورخہ ۱۷ را پریل ۱۹۰۳ء صفحه ۹۹) نجات کا اثر یہ ہے کہ اسی دنیا میں اس شخص کو بہشتی زندگی نصیب ہو۔ مَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْلى - البدر جلد ۲ نمبر ۲۹ مورخہ ۷ را گست ۱۹۰۳ ء صفحہ ۲۲۷) کوئی بات سوائے خدا تعالیٰ کے فضل کے حاصل نہیں ہو سکتی اور جسے اس دنیا میں فضل ہوگا اسے ہی آخرت میں بھی ہوگا جیسے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے مَنْ كَانَ فِي هَذِهِ اعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ اَعْلٰی ۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ ان حواس کے حصول کی کوشش اسی جہان میں کرنی چاہیے کہ جس سے انسان کو بہشتی زندگی حاصل ہوتی ہے اور وہ حواس بلا تقومی کے نہیں مل سکتے ۔ ان آنکھوں سے انسان خدا کو نہیں دیکھ سکتا لیکن تقویٰ آنکھوں سے اسے انسان خدا کو ۔۔۔۔۔ دیکھ سکتا ہے ۔ اگر وہ تقوی اختیار کرے گا تو وہ محسوس کرے گا کہ خدا مجھے نظر آ رہا ہے اور ایک دن آوے گا کہ خود کہہ اُٹھے گا کہ میں نے خدا کو دیکھ لیا۔ البدر جلد ۲ نمبر ۴۳ مورخه ۱۶ نومبر ۱۹۰۳ صفحه ۳۳۴) جو تعلق عبودیت کار بوبیت سے ہے وہ بہت گہرا اور انوار سے پر ہے جس کی تفصیل نہیں ہو سکتی ۔ جب وہ نہیں ہے تب تک انسان بہائم ہے اگر دو چار دفعہ بھی لذت محسوس ہو جائے تو اس چاشنی کا حصہ مل گیا لیکن جسے دو چار دفعہ بھی نہ ملا وہ اندھا ہے ۔ مَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْلَى - جو یہاں خدا نہیں دیکھتا وہ وہاں بھی نہیں دیکھ سکے گا۔ البدر جلد ۳ نمبر ۱۰ مورخه ۱۸ مارچ ۱۹۰۴ ء صفحہ ۷ ) البدر جلد ۳ نمبر ۲۵ مورخہ یکم جولائی ۱۹۰۴ ء صفحہ ۶ ) سچ ہے جس اندھے کے پاس روشنی موجود نہیں وہ کیسے دعوی کر سکتا ہے کہ میں روشنی رکھتا ہوں اور تقسیم کر