تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 145 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 145

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام الده سورة بني اسراءيل وہ جو اس دنیا میں کچھ نہیں پاتا اور آئندہ جنت کی امید کرتا ہے وہ طمع خام کرتا ہے اصل میں وہ مَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْلیٰ کا مصداق ہے۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۲۶ مورخہ ۲۴ جولائی ۱۹۰۲ء صفحہ ۹) جو شخص اس جہان میں اندھا ہو وہ اس دوسرے جہان میں بھی اندھا ہی ہوگا بلکہ اندھوں سے بھی بدتر ۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کو دیکھنے کی آنکھیں اور اس کے دریافت کرنے کے حواس اسی جہان سے انسان اپنے ساتھ لے جاتا ہے جو یہاں ان حواس کو نہیں پاتا وہاں وہ ان حواس سے بہرہ ور نہیں ہوگا۔ یہ ایک دقیق دقیق راز ہے جس کو عام لوگ سمجھ بھی نہیں سکتے ۔ اگر اس کے یہ معنی نہیں تو یہ تو پھر بالکل غلط ہے کہ اندھے اس جہان میں بھی اندھے ہوں گے۔ اصل بات یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کو بغیر کسی غلطی کے پہنچاننا اور اسی دنیا میں صحیح طور پر اس کی صفات و اسماء کی معرفت حاصل کرنا آئندہ کی تمام راحتوں اور روشنیوں کی کلید ہے اور یہ آیت اس امر کی طرف صاف اشارہ کر رہی ہے کہ اسی دنیا سے ہم عذاب اپنے ساتھ لے جاتے ہیں اور اس دنیا کی کورانہ زیست اور نا پاک افعال ہی اس دوسرے عالم میں عذاب جہنم کی صورت میں نمودار ہو جائیں گے اور وہ کوئی نئی بات نہ ہوں گے۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۱ مورخه ۱۰ار جنوری ۱۹۰۲ صفحه ۴) جو اس جہان میں اندھا ہے وہ اس جہان میں بھی اندھا ہے جس کی منشاء یہ ہے کہ اس جہان کے مشاہدہ کے لئے اسی جہان سے ہم کو آنکھیں لے جاتی ہیں۔ آئندہ جہان کو محسوس کرنے کے لئے حواس کی تیاری اسی جہان میں ہوگی پس کیا یہ گمان ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ وعدہ کرے اور پورا نہ کرے۔ اندھے سے مراد وہ ہے جو روحانی معارف اور روحانی لذات سے خالی ہے۔ ایک شخص کورانہ تقلید سے کہ مسلمانوں کے گھر پیدا ہو گیا مسلمان کہلاتا ہے دوسری طرف اسی طرح ایک عیسائی عیسائیوں کے ہاں پیدا ہو کر عیسائی ہو گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے شخص کو خدا، رسول اور قرآن کی کوئی عزت نہیں ہوتی اس کی دین سے محبت بھی قابلِ اعتراض ہے خدا اور رسول کی ہتک کرنے والوں میں سے اس کا گزر ہوتا ہے اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ایسے شخص کی روحانی آنکھ نہیں اس میں محبت دین نہیں ۔ والا محبت والا اپنے محبوب کے برخلاف کیا کچھ پسند کرتا ہے؟ الحکم جلد ۷ نمبر ۲۲ مورخه ۷ ارجون ۱۹۰۳ء ۱۹۰ ء صفحه (۶) جو شخص اس دنیا میں خدا کے دیکھنے سے بے نصیب ہے وہ قیامت کو بھی محروم ہی ہو گا جیسے خدا نے خود فرمایا ہے مَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ اَعْلٰی اس سے یہ مراد تو نہیں ہو سکتی کہ جو اس دنیا میں اندھے یہ