تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 428
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۲۸ سورة الرعد کرے یعنی جس پیشگوئی کا یہ مضمون ہو کہ کسی شخص یا گروہ پر کوئی بلا پڑے گی اس میں یہ بھی ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ اس بلا کو ٹال دے جیسا کہ یونس کی پیشگوئی کو جو چالیس دن تک محدود تھی ٹال دیا۔ لیکن جس پیشگوئی میں وعدہ ہو یعنی کسی انعام اکرام کی نسبت پیشگوئی ہو وہ کسی طرح ٹل نہیں سکتی ۔ خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ إِنَّ اللهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعاد مگر کسی جگہ یہ نہیں فرمایا کہ إِنَّ اللهَ لَا يُخْلِفُ الْوَعِيدَد پس اس میں راز یہی ہے کہ وعید کی پیشگوئی خوف اور دعا اور صدقہ خیرات سے مل سکتی ہے۔ ( تذکرة الشهادتين، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۴۴) إِنَّ اللَّهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ خدا تعالیٰ اپنے وعدوں کا خلاف نہیں کرتا۔ الحکم جلدے نمبر ۱۲ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۵ ) لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ فرمایا ہے لا يُخْلِفُ الْوَعِید نہیں فرمایا ۔ اللہ تعالیٰ کے وعید معلق ہوتے ہیں جو دعا اور صدقات سے بدل جاتے ہیں۔ اس کی بے انتہا نظیریں موجود ہیں اگر ایسا نہ ہوتا تو انسان کی فطرت میں مصیبت اور بلا کے وقت دعا اور صدقات کی طرف رجوع کرنے کا جوش ہی نہ ہوتا ۔ الحکم جلد ۷ نمبر ۱۳ مورخہ ۱۰ را پریل ۱۹۰۳ صفحه ۳) وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَأَمْلَيْتُ لِلَّذِينَ كَفَرُوا ثُمَّ أَخَذْتُهُمُ * فَكَيْفَ كَانَ عِقَابِ ۔ @ پہلے بھی رسولوں پر ٹھٹھا کیا گیا پس ہم نے ان کافروں کو جو ٹھٹھا کرتے ہیں مہلت د ہیں مہلت دی۔ پھر جب وہ اپنے ٹھٹھے میں کمال تک پہنچ گئے تب ہم نے ان کو پکڑ لیا اور لوگوں نے دیکھ لیا کہ کیوں کر ہمارا عقاب ان پر وارد (انوار الاسلام ، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۱۵ حاشیہ نمبر ۱ ) ہوا۔ أَفَمَنْ هُوَ قَائِمٌ عَلَى كُلِّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ وَ ۔ وَ جَعَلُوا لِلَّهِ شُرَكَاء شُرَكَاءَ قُلْ سَبُوهُم ۔ أَمْ تُنَبِّئُونَهُ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي الْأَرْضِ أَمْ بِظَاهِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ بَلْ زُيِّنَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مَكْرُهُمْ وَصُدُّوا عَنِ السَّبِيلِ وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ ہر یک جان پر وہ کھڑا ہے۔ اس کے عمل مشاہدہ کر رہا ہے۔ (۳۴) ست بچن ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۲۸)