تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 427
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۲۷ سورة الرعد موعود آجائے گا جس کا خدا نے وعدہ کیا ہے۔ خدا تخلف وعدہ نہیں کرے گا۔ ( براہین احمد یہ چہار تخصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۵۵ حاشیہ نمبر ۱۱) اور ہمیشہ کفار پر کسی قسم کی کوفتیں جسمانی ہوں یا روحانی پڑتی رہیں گی یا ان کے گھر سے نزدیک آجائیں گی یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کا وعدہ آپہنچے گا اور خدا تعالیٰ اپنے وعدوں میں تخلف نہیں کرتا۔ (شهادة القرآن، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۵۲، ۳۵۳) وعدہ سے مراد وہ امر ہے جو علم الہی میں بطور وعدہ قرار پا چکا ہے نہ وہ امر جو انسان اپنے خیال کے مطابق اس کو قطعی وعدہ خیال کرتا ہو۔ اسی وجہ سے المیعاد پر جو الف لام ہے وہ عہد ذہنی ہ عہد ذہنی کی قسم میں ۔ میں سے ہے یعنی وہ امر جو ارادہ قدیمہ میں وعدہ کے نام سے موسوم ہے گو انسان کو اس کی تفاصیل پر علم ہو یا نہ ہو وہ غیر متبدل ہے ور نہ ممکن ہے جو انسان جس بشارت کو وعدہ کی صورت میں سمجھتا ہے اس کے ساتھ کوئی ایسی شرط مخفی ہو جس کا عدم تحقق اس بشارت کے عدم تحقق کے لئے ضروری ہو کیونکہ شرائط کا ظاہر کرنا اللہ جلشانہ پر حق واجب نہیں ہے۔ چنانچہ اسی بحث کو شاہ ولی اللہ صاحب نے بسط سے لکھا ہے اور مولوی عبد الحق صاحب دہلوی نے بھی فتوح الغیب کی شرح میں اس میں بہت عمدہ بیا ج میں اس میں بہت عمدہ بیان کیا ہے اور لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بدر کی لڑائی میں تضرع اور دعا کرنا اسی خیال سے تھا کہ الہی مواعید اور بشارات میں احتمال شرط مخفی ہے اور یہ اس لیے سنت اللہ ہے کہ تا اس کے خاص بندوں پر ہیبت اور عظمتِ الہی مستولی رہیں ۔ ماحصل کلام یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے وعدوں میں بیشک تخلف نہیں وہ جیسا کہ خدا تعالیٰ کے علم میں ہیں پورے ہو جاتے ہیں لیکن انسان ناقص العقل کبھی ان کو تخلف کی صورت میں سمجھ لیتا ہے کیونکہ بعض ایسی مخفی شرائط پر اطلاع نہیں پاتا جو پیشگوئی کو دوسرے رنگ میں لے آتے ہیں ۔ ( مجموعه اشتہارات جلد اول صفحہ ۴۴۸،۴۴۷ حاشیہ ) وعید یعنی عذاب کی پیشگوئی ٹلنے کے بارہ میں تمام نبی متفق ہیں۔ رہی وعدہ کی پیشگوئی جس کی نسبت یہ حکم ہے کہ إِنَّ اللَّهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ اس کی نسبت بھی ہمارا یہ ایمان ہے کہ خدا اس وعدہ کا تخلف نہیں کرتا جو اس کے علم کے موافق ہے لیکن اگر انسان اپنی غلطی سے ایک بات کو خدا کا وعدہ سمجھ لے جیسا کہ حضرت نوح نے سمجھ لیا تھا ایسا تخلف وعدہ جائز ہے کیونکہ دراصل وہ خدا کا وعدہ نہیں بلکہ انسانی غلطی نے خواہ نخواہ اس کو وعدہ قرار دیا ہے۔ (حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۴۴) اسلام میں یہ مسلم امر ہے کہ جو پیشگوئی وعید کے متعلق ہو اس کی نسبت ضروری نہیں کہ خدا اس کو پورا