تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 429 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 429

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۲۹ سورة الرعد مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِي وُعِدَ الْمُتَّقُونَ تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهُرُ أَكُلُهَا دَائِم وَ ظِلُّهَا تِلْكَ عُقْبَيَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَعُقْبَيَ الْكَفِرِينَ النَّارُ قرآن شریف کی تعلیم ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ جیسا کہ یہ بات ٹھیک نہیں کہ بہشت کی لذات صرف روحانی ہیں اور دنیوی جسمانی لذات سے بالکل مخالف ہیں ایسا ہی یہ بھی درست نہیں کہ وہ لذات دنیوی جسمانی لذات سے بالکل مطابق ہے بلکہ عالم رویا کی طرح رح صورت میں مشابہت ہے اور حقیقت میں مغایرت ہے۔ عالم رویا کے پھل اور عالم رویا کی خوبصورت عورتیں ظاہر صورت میں وہی لذات بخشتی ہیں جو عالم جسمانی میں ہیں مگر عالم رویا کی حقیقت اور اس عالم جسمانی کی حقیقت اور ہے۔ ( کتاب البریہ، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۷۰ حاشیہ ) خدا نے بہشت کی خوبیاں اس پیرایہ میں بیان کی ہیں جو عرب کے لوگوں کو چیزیں دل پسند تھیں وہی بیان کر دی ہیں تا اس طرح پر ان کے دل اس طرف مائل ہو جائیں اور دراصل وہ چیزیں اور ہیں یہی چیزیں نہیں ۔ مگر ضرور تھا کہ ایسا بیان کیا جاتا ۔ ا جاتا تا کہ دل مائل کئے جا جائیں ۔ مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِي وُعِدَ الْمُتَّقُونَ - ( براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۴۲۴) یہ ایک مثال ہے نہ کہ حقیقت ۔ قرآن شریف کے ان الفاظ سے صاف عیاں ہے کہ وہ جنت کوئی اور ہی چیز ہے اور حدیث میں صاف یہ بھی بیان ہو چکا ہے کہ ان ظاہری جسمانی دنیوی امور پر نعماء جنت کا قیاس نہ کیا جاوے کیوں کہ وہ ایسی چیز ہے کہ نہ کسی آنکھ نے دیکھی نہ کسی کان نے سنی وغیرہ مگر وہ باتیں جن کی مثال دے کر جنت کی نعماء کا تذکرہ کیا گیا ہے وہ تو ہم دیکھتے بھی ہیں اور سنتے بھی ہیں ۔ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴۱ مورخہ ۱۴ جولائی ۱۹۰۸ء صفحه ۵) انسان جو عبادت کے لئے پیدا کیا گیا ہے اگر دل صاف کرے اور اس میں کسی قسم کی کجی اور ناہمواری ، کنکر، پتھر نہ رہنے دے تو اس میں خدا نظر آئے گا۔ میں پھر کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی محبت کے درخت اس میں پیدا ہو کر نشو نما پائیں گے اور وہ اثمار شیریں و طیب ان میں لگیں گے جو : أَكُلُهَا دَائِم کے مصداق ہوں گے۔ یا د رکھو کہ یہ وہی مقام ہے جہاں صوفیوں کے سلوک کا خاتمہ ہے۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۲۶ مورخہ ۲۴ جولائی ۱۹۰۲ء صفحہ ۹)