تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 426
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۲۶ سورة الرعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر ذرا بھی غم پہنچتا تو آپ نماز کے لئے کھڑے ہو جاتے اور اس لئے فرمایا ہے: أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوب - اطمینان ، سکینت قلب کے لئے نماز سے بڑھ کر اور کوئی ذریعہ نہیں ۔ الحکم جلد ۷ نمبر ۲۰ مورخہ ۳۱ رمئی ۱۹۰۳ ء صفحہ ۹) قرآن سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر ایسی شے ہے جو قلوب کو اطمینان عطا کرتا ہے جیسا کہ فرمایا : أَلَا بِذِكْرِ اللهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ ۔ پس جہاں تک ممکن ہو ذکر الہی کرتا رہے اسی سے اطمینان حاصل ہوگا ۔ ہاں اس ۔ اس کے واسطے صبر اور محنت درکار ہے۔ اگر گھبرا جاتا اور تھک جاتا ہے تو پھر یہ اطمینان نصیب نہیں الحکم جلد ۹ نمبر ۲۴ مورخه ۱۰ جولائی ۱۹۰۵ صفحه ۹) ہو سکتا۔ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ اس کے عام معنی تو یہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر سے قلوب اطمینان پاتے ہیں لیکن اس کی حقیقت اور فلسفہ یہ ہے کہ جب انسان سچے اخلاص اور پوری وفاداری کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے اور ہر وقت اپنے آپ کو اس کے سامنے یقین کرتا ہے اس سے اس کے دل پر ایک خوف عظمت الہی کا پیدا ہوتا ہے وہ خوف اس کو مکروہات اور منہیات سے بچاتا ہے اور انسان تقویٰ اور طہارت میں ترقی کرتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے ملائکہ اس پر نازل ہوتے ہیں اور وہ اس کو بشارتیں دیتے ہیں اور الہام کا دروازہ اس پر کھولا جاتا ہے اس وقت وہ اللہ تعالیٰ کو گو یا دیکھ لیتا ہے اور اس کی وراء الورا طاقتوں کو مشاہدہ کرتا ہے۔ پھر اس کے دل پر کوئی ہم و غم نہیں آسکتا اور طبیعت ہمیشہ ایک نشاط اور خوشی میں رہتی ہے۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۳۲ مورخه ۱۰ استمبر ۱۹۰۵ صفحه ۸) وَ لَوْ أَنَّ قُرْآنًا سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ أَوْ قُطِعَتْ بِهِ الْأَرْضُ أَوْ كُلَّمَ بِهِ الْمَوْتَى بَلْ لِلَّهِ الْأَمْرُ جَمِيعًا أَفَلَمْ يَا يُشَسِ الَّذِينَ آمَنُوا أَنْ لَوْ يَشَاءُ اللَّهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِيعًا وَلَا يَزَالُ الَّذِينَ كَفَرُوا تُصِيبُهُمْ بِمَا صَنَعُوا قَارِعَةٌ أَوْ تَحُلُّ قَرِيبًا مِنْ دَارِهِمْ حَتَّى يَأْتِي وَعْدُ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ اگر چہ قرآنی معجزات ایسے دیکھتے جن سے پہاڑ جنبش میں آجاتے۔ ( براہین احمد یہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۵۹۲ حاشیه در حاشیه نمبر ۳) وَلَا يَزَالُ الَّذِينَ كَفَرُوا الخ اور ہمیشہ ان کافروں کو کوئی نہ کوئی کوفت پہنچتی رہے گی یہاں تک کہ وہ وقتِ