تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 415 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 415

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام لدان جب تک دلوں کی وباء معصیت دور نہ ہو تب تک ظاہری و با بھی دور نہ ہوگی ۔ سورة الرعد ( مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحه ۱۸۵) میری رائے ہے جب تک کہ لوگ کامل طور پر رجوع نہ کریں تقدیر نہ بدلے گی ۔ إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ - الحکم جلد ۵ نمبر ۲۲ مورخه ۱۷ رجون ۱۹۰۱ ء صفحه ۴) جب تک انسان مجاہدہ نہ کہ ن مجاہدہ نہ کرے گا ۔ دعا سے کام نہ لے گا وہ عمرہ جو دل پر پڑ جاتا ہے دور نہیں ہو سکتا ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : إِنَّ اللهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ یعنی خدا تعالیٰ ہر ایک قسم کی آفت اور بلا کو جو قوم پر آتی ہے دور نہیں کرتا ہے جب تک خود قوم اس کو دور کرنے کی کوشش نہ کرے، ہمت نہ کرے، شجاعت سے کام نہ لے تو کیوں کر تبدیلی ہو ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی ایک لا تبدیل سنت ہے جیسے فرمایا وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللهِ تَبْدِيلًا (فاطر : ۴۴)۔ پس ہماری جماعت ہو یا کوئی ہو وہ تبدیل اخلاق اسی صورت میں کر سکتے ہیں جبکہ مجاہدہ اور دعا سے کام لیں ورنہ ممکن نہیں ہے۔ (رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ صفحہ ۱۵۶) نیک بختی اور تقویٰ کی طرف توجہ کرنی چاہیے اور سعادت کی راہیں اختیار کرنی چاہئیں تب ہی کچھ ہوتا ہے۔ إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ (الآية س ۱۳) خدا تعالیٰ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک کہ خود قوم اپنی حالت کو تبدیل نہ کرے۔ خواہ مخواہ کے ظن کرنا اور بات کو انتہا تک پہنچانا بالکل بیہودہ بات ہے ضروری بات یہ ہے کہ لوگ خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کریں، نماز پڑھیں ، زکوۃ دیں، اتلاف حقوق اور بدکاریوں سے باز آئیں ۔ ( الانذار صفحه (۱۶) خدا تعالیٰ اپنا قانون کبھی نہیں بدلتا ۔ إِنَّ اللهَ لَا يُغَيْرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُخَيَّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ - خدا تعالیٰ نے میرے الہام میں جو طاعون کے متعلق ہے یہ آیت رکھی ہے جو اس امر کی طرف رہبری کرتی ہے کہ تبدیلی کی بڑی ضرورت ہے۔ یہ بڑی ہی خوفناک بات ہے کہ انسان سن کر کانوں تک ہی رہنے دے اور دل تک نہ پہنچے۔ بڑا ہی ظالم وہ شخص ہے جو ظاہری حالت پر خوش ہو جاتا ہے اور سچی اطاعت کی حالت نہیں دکھاتا۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۳۹ مورخه ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۲ صفحه ۹) انسان کو عذاب ہمیشہ گناہ کے باعث ہوتا ہے۔ خدا فرماتا ہے: اِنَّ اللَّهَ لَا يُخَيَّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا ما بِأَنفُسِهِم اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اندر تبدیلی نہ کرے۔ البدر جلد ۲ نمبر ۱۴ مورخہ ۲۴ را پریل ۱۹۰۳ء صفحه ۱۰۹)