تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 416
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱۶ سورة الرعد خدا نے یہ وعدہ نہیں کیا کہ باوجود گنہگار ہونے کے اللہ تعالیٰ بغیر عذاب کے چھوڑ دے۔ ایک طرف تو قرآن میں یہ لکھا ہے کہ طاعون سے کوئی بستی خالی نہیں رہے گی اور طاعون کی وجہ صرف یہی ہے جو اِنَّ اللهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ کے الہام سے ظاہر ہے یعنی جب لوگوں نے اپنے افعال اور اعمال سے غضب الہی کے جوش کو بھڑ کا یا اور بد عملیوں سے اپنی حالتوں کو ایسا بدل لیا کہ خوف خدا اور تقویٰ و طہارت کی ہر ایک راہ کو چھوڑ دیا اور بجائے اس کے طرح طرح کے فسق و فجور کو اختیار کر لیا اور خدا پر ایمان سے بالکل ہاتھ دھو دیا۔ دہریت اندھیری رات کی طرح دنیا پر محیط ہوگئی اور اللہ تعالیٰ کے نورانی چہرے کو ظلمت کے نیچے دباد یا تو خدا نے اس عذاب کو نازل کیا تا لوگ خدا کے چہرے کو دیکھ لیں اور اس کی طرف رجوع کریں ۔ ( البدر جلد ۳ نمبر ۲۵ مورخہ یکم جولائی ۱۹۰۴ صفحه (۳) سے جو شخص چاہتا ہے کہ آسمان میں اس کے لئے تبدیلی ہو یعنی وہ ان عذابوں اور دکھوں پائے جو شامت اعمال نے اس کے لئے طیار کئے ہیں۔ اس کا پہلا فرض یہ ہے کہ وہ اپنے اندر تبدیلی کرے۔ جب وہ خود تبدیلی کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کے موافق جو اس نے اِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيْرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا وو مَا بِأَنْفُھم میں کیا ہے اس کے عذاب اور دکھ کو بدلا دیتا ہے اور دکھ کو سکھ سے تبدیل کر دیتا ہے جب انسان اپنے اندر تبدیلی کرتا ہے تو اس کے لئے ضرور نہیں ہے کہ وہ لوگوں کو بھی دکھاتا پھرے ۔ وہ رحیم کریم خدا جو دلوں کا مالک ہے اس کی تبدیلی کو دیکھ لیتا ہے کہ یہ پہلا انسان نہیں ہے اس لئے وہ اس پر فضل کرتا ہے۔ الحکم جلد ۸ نمبر ۳۱ مورخه ۷ ارستمبر ۱۹۰۴ء صفحه ۲) اللہ تعالیٰ کبھی حالت قوم میں تبدیلی نہ کرے گا جب تک لوگ دلوں کی تبدیلی نہ کریں گے۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۱۵ مورخه ۳۰ را پریل ۱۹۰۵ ء صفحه ۲) خدا تعالیٰ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو درست نہ کر لیں ۔ الحکم جلد ا ا نمبر ۹ مورخہ ۱۷ مارچ ۱۹۰۷ ء صفحہ ۱۱) یا درکھیں کہ اللہ اس حالت کو نہیں بدلائے گا جب تک دلوں کی حالت میں یہ لوگ خود تبدیلی نہ کریں۔ للہ الحکم جلد ا ا نمبر ۳۶ مورخه ۱۰ اکتوبر ۱۹۰۷ صفحه ۸) خدا نہیں چھوڑے گا اور ہر گز نہیں چھوڑے گا جب تک لوگ اپنے اخلاق ، اعمال اور خیالات میں ایک تبدیلی پیدا نہ کر لیں گے۔ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۳ مورخه ۱۴ رمئی ۱۹۰۸ صفحه ۳) لَهُ دَعْوَةُ الْحَقِّ وَ الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ لَا يَسْتَجِيبُونَ لَهُمْ بِشَيْءٍ إِلَّا