تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 414
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱۴ سورة الرعد عرش ہے اور یہ ایسا نہاں در نہاں مقام ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کی چار صفات ظہور پذیر نہ ہوتیں جو سورۃ فاتحہ کی پہلی آیات میں ہی درج ہیں تو اس کے وجود کا کچھ پتہ نہ لگتا یعنی ربوبیت ، رحمانیت ، رحیمیت ، مالک یوم الجزاء ہونا سو یہ چاروں صفات استعارہ کے رنگ میں چار فرشتے خدا کی کلام میں قرار دیئے گئے ہیں جو اس کے عرش کو اٹھا رہے ہیں یعنی اس وراء الوراء مقام میں جو خدا ہے اس مخفی مقام سے اس کو دکھلا رہے ہیں ورنہ خدا کی شناخت کے لئے کوئی ذریعہ نہ تھا۔ چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۷۹ حاشیه ) استعارہ کے طور پر خدا کے صفات کے ظہور کو ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ سے بیان کیا ہے کہ آسمان اور زمین کے پیدا کرنے کے بعد صفات الہیہ کا ظہور ہوا ۔ صفات اس کے ازلی ابدی ہیں مگر جب مخلوق ہو تو خالق کو شناخت کرے اور محتاج ہوں تو رازق کو پہنچانیں اسی طرح اس کے علم اور قادر مطلق ہونے کا پتہ لگتا ہے۔ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ خدا کی اس تجلی کی طرف اشارہ ہے جو خَلَقَ السَّبُواتِ وَالْأَرْضَ کے بعد ہوئی ۔ البدر نمبر ۵ جلد ۲ مورخه ۲۰ فروری ۱۹۰۳ ء صفحه ۳۸) لَهُ مُعَقِّبْت مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَ مِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ لا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ وَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِقَوْمٍ سُوءًا فَلَا مَرَدَّ لَهُ وَمَا لَهُمْ مِّنْ دُونِهِ مِنْ وَالِ لَهُ مُعَقِّبْتُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَ مِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ الله ۔۔۔۔۔۔ خدا تعالیٰ کی طرف سے چوکیدار مقرر ہیں جو اس کے بندوں کی ہر طرف سے یعنی کیا ظاہری طور پر اور کیا باطنی طور پر حفاظت کرتے ہیں ۔ - ( آئینہ کمالات اسلام ، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۷۹) إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيْرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيَّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ ۔۔۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے ارادے کی اس وقت تبدیلی ہوگی جب دلوں کی تبدیلی ہوگی ۔ پس خدا تعالی سے ڈرو اور اس کے قہر سے خوف کھاؤ۔ کوئی کسی کا ذمہ دار نہیں ہو سکتا ۔ معمولی مقدمہ کسی پر ہو تو اکثر لوگ وفا نہیں کر سکتے پھر آخرت میں کیا بھروسہ رکھ سکتے ہو۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۴۱ مورخه ۱۳۰ نومبر ۱۹۰۶ ء صفحه ۵) خدا تعالیٰ اس نیکی یا بدی کو جو کسی قوم کے شامل حال ہے دور نہیں کرتا جب تک وہ قوم ان باتوں کو اپنے (ایام اصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۳۴۱) سے دور نہ کرے جو اس کے دل میں ہیں ۔