تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 405
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام يبَنِي لد ٢٠ سورة يوسف اذْهَبُوا فَتَحَسَّسُوا مِنْ يُوسُفَ وَأَخِيهِ وَلَا تَايُنَسُوا مِنْ رَّوْحِ اللَّهِ إِنَّهُ لَا يَا يُنَسُ مِنْ رَّوْحِ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَفِرُونَ ۔ ہمارا تو یہ مذہب ہے کہ خدا تعالیٰ کی تائید اور فضل کے بغیر ایک انگلی کا ہلانا بھی مشکل ہے ہاں یہ انسان کا فرض ہے کہ سعی اور مجاہدہ کرے جہاں تک اس سے ممکن ہے اور اس کی توفیق بھی خدا تعالیٰ سے ہی چاہے۔ کبھی اس سے مایوس نہ ہو کیونکہ مومن کبھی مایوس نہیں ہوتا ۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ نے خود بھی فرمایا : لا يائس مِنْ رَّوْحِ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَفِرُونَ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کافر نا امید ہوتے ہیں نا امیدی بہت ہی بری چیز ہے اصل میں نا امید وہ ہوتا ہے جو خدا تعالیٰ پر بدظنی کرتا ہے۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۱۴ مورخه ۲۴ را پریل ۱۹۰۵ء صفحه (۲) قَالُوا وَإِنَّكَ لَأَنْتَ يُوسُفُ قَالَ أَنَا يُوسُفُ وَ هُذَا أَخِي قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنَا إِنَّهُ مَنْ يَتَّقِ وَيَصْبِرُ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ ) إِنَّهُ مَنْ يَتَّقِ وَيَصْبِرُ فَإِنَّ اللهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ یعنی جو شخص صبر کرے گا اور ڈرے گا خدا اس کا اجر ضائع نہیں کرے گا۔ یہ عام پیشگوئی ہے جو تقومی اور صبر کے ساتھ مشروط ہے۔ ایام الصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۲۳۳ حاشیه ) قَالَ لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ يَغْفِرُ اللهُ لَكُمْ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّحِمِينَ حضرت خاتم الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ والوں اور دوسرے لوگوں پر بکلی فتح پا کر اور ان کو اپنی تلوار کے نیچے دیکھ کر پھر ان کا گناہ بخش دیا اور صرف انہیں چند لوگوں کو سزا دی جن کو سزا دینے کے لئے حضرت احدیت کی طرف سے قطعی حکم وارد ہو چکا تھا اور بجز ان از لی ملعونوں کے ہر یک دشمن کا گناہ بخش دیا سے حکم ہو چکا تھا اور لیلا اور فتح یا کر سب کو لا تثريب عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ کہا اور اس عفو تقصیر کی وجہ سے کہ جو مخالفوں کی نظر میں ایک امر محال معلوم ہوتا تھا اور اپنی شرارتوں پر نظر کرنے سے وہ اپنے تئیں اپنے مخالف کے ہاتھ میں دیکھ کر مقتول خیال کرتے تھے ہزاروں انسانوں نے ایک ساعت میں دین اسلام قبول کر لیا۔ ( براہین احمد یہ چہار تخصص ، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۲۸۷،۲۸۶ حاشیہ نمبر ۱۱)