تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 406
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰۶ سورة يوسف ۔۔ جلم میں اپنی شان دکھاتے ہیں تو واجب القتل کو چھوڑ دیتے ہیں ۔ ۔۔۔ اگر حکومت کا رنگ نہ ہوتا تو یہ کیوں کر ثابت ہوتا کہ آپ واجب القتل کفار مکہ کو با وجود مقدرت انتظام بخش سکتے ہیں جنہوں نے صحابہ کرام اور خود حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اور مسلمان عورتوں کو سخت عورتوں کو سخت سے سخت اذ اذیتیں اور اور تکلیفیں دی تھیں ۔ جب وہ سامنے آئے تو آپ نے فرمایا : لا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ میں نے آج تم کو بخش دیا۔ اگر ایسا موقع نہ ملتا تو ایسے اخلاق فاضلہ حضور کے کیوں کر ظاہر ہوتے ؟ ( رپوٹ جلسہ سالانه ۱۸۹۷ ء صفحہ ۱۵۲، ۱۵۳) ابو جہل اور اس کے دوسرے رفیقوں نے کون سی تکلیف تھی جو آپ کو اور آپ کے جاں شار خادموں کو نہیں دی ۔ غریب مسلمان عورتوں کو اونٹوں سے باندھ کر مخالف جہات میں دوڑا یا اور وہ چیری جاتی تھیں محض اس گناہ پر کہ وہ لا الہ الا اللہ پر کیوں قائل ہوئیں مگر آپ نے اس کے مقابل صبر برداشت سے کام لیا اور جبکہ مکہ فتح ہوا تو لا تثريب عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ کہہ کر معاف فرمایا ۔ یہ کس قدر اخلاقی کمال ہے جو کسی دوسرے نبی میں نہیں پایا جاتا ۔ اللهم صل علی محمد و علی ال محمد ۔ غرض بات یہ ہے کہ اخلاق فاضلہ حاصل کرو که نیکیوں کی کلید اخلاق ہی ہیں ۔ الحکم جلد ۴ نمبر ۲۵ مورخه ۹ جولائی ۱۹۰۰ صفحه ۵ ) پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے اخلاق کے دو پہلو دکھلائے ایک مکی زندگی جب کہ آپ کے ساتھ صرف چند آدمی تھے اور کچھ قوت نہ تھی ۔ دوسرا مدنی زندگی میں جبکہ آپ فاتح ہوئے اور وہی کفار جو آپ کو تکلیف دیتے تھے اور آپ ان کی ایذا دہی پر صبر کرتے تھے اب آپ کے قابو میں آگئے ایسا کہ جو چاہتے آپ ان کو سزا دے سکتے تھے۔ مگر آپ نے لا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ کہہ کر ان کو چھوڑ دیا اور کچھ سزا نہ دی۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۹ مورخه ۱۰ مارچ ۱۹۰۱ء صفحه ۹) مکہ میں جن لوگوں نے دکھ دیئے تھے جب آپ نے مکہ کو فتح کیا تو آپ چاہتے تو سب کو ذبح کر دیتے مگر آپ نے رحم کیا اور لا تثريب عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ کہہ دیا۔ آپ کا بخشا تھا کہ سب مسلمان ہو گئے ۔ اب اس قسم کے عظیم الشان اخلاق فاضلہ کیا کسی نبی میں پائے جاتے ہیں؟ ہر گز نہیں ۔ وہ لوگ جنہوں نے آپ کی ذات خاص اور عزیزوں اور صحابہ کو سخت تکلیفیں دیں تھیں اور نا قابلِ عفوایدا ئیں پہنچائی تھیں آپ نے سزا دینے کی قوت اور اقتدار کو پا کر فی الفور ان کو بخش دیا حالانکہ اگر ان کو سزادی جاتی تو یہ بالکل انصاف اور عدل تھا مگر آپ نے اس وقت اپنے عفو اور کرم کا نمونہ دکھایا۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۲۷ مورخہ ۳۱ جولائی ۱۹۰۲ ء صفحہ ۸) ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھو کہ جب مکہ والوں نے آپ کو نکالا اور تیرہ برس تک ہر قسم کی