تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 404 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 404

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام لد ولد سورة يوسف اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں نفس انسان کے تین مرتبے بیان فرمائے ہیں امارہ ، لوامہ ، مطمئنہ ۔ نفس امارہ تو ہر وقت انسان کو گناہ اور نافرمانی کی طرف کھینچتا رہتا ہے اور بہت خطرناک ہے۔ لوامہ وہ ہے کہ کبھی کوئی بدی ہو جاوے تو ملامت کرتا ہے مگر یہ بھی قابل اطمینان نہیں ہے قابل اطمینان صرف نفس کی وہ حالت ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے نفس مطمئنہ کے نام سے پکارا ہے اور وہی اچھا ہے۔ وہ اس حالت کا نام ہے کہ جب انسان خدا کے ساتھ ٹھیر جاتا ہے۔ اسی حالت میں آکر انسان گناہ کی آلائش سے پاک کیا جاتا ہے۔ یہی ایک گناہ سوز حالت ہے اور اسی درجہ کے انسانوں کے ساتھ برکات کے وعدے ہوئے ہیں ۔ ملائکہ کا نزول ان پر ہوتا ہے اور حقیقی نیکی اور پا کی صرف انہیں کا حصہ ہے۔ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۱۶ مورخه ۲ مارچ ۱۹۰۸ء صفحہ ۵) امارہ مبالغہ کا صیغہ ہے۔ امارہ کہتے ہیں بدی کی طرف لے جانے والا ، بہت بدی کا حکم کرنے والا ۔۔۔۔ نفس امارہ انسان کا دشمن ہے اور وہ گھر کا پوشیدہ دشمن ہے۔ (الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴۱ مورخہ ۱۴ جولائی ۱۹۰۸ صفحه ۵ ) اماره مبالغہ کا صیغہ ہے اس سے مراد یہ ہے کہ بدی کی طرف بار بار جانے والا۔ ( بدر جلد ۶ نمبر ۲۵ مورخه ۲۵ جون ۱۹۰۸ء صفحه ۵) وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُونِي بِهِ اسْتَخْلِصُهُ لِنَفْسِي فَلَمَّا كَلَّمَهُ قَالَ إِنَّكَ الْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِينَ آمِينَ إِنَّكَ الْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِينَ آمِينَ ۔۔۔۔ تو آج ہمارے نزدیک صاحب مرتبہ اور امانتدار ۔۔۔۔ ہے۔ ( براہین احمد یہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۲۶۶ حاشیه در حاشیہ نمبر ۴) آج تو میرے نزدیک با مرتبہ اور امین ہے۔ ( براہین احمد یہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۶۰۰ حاشیه در حاشیه نمبر (۳) فَلَمَّا رَجَعُوا إِلَى أَبِيهِمْ قَالُوا يَابَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَيْلُ فَأَرْسِلْ مَعَنَا أَخَانَا نَكْتَلُ وَإِنَّا لَهُ لَحْفِظُونَ إِنَّا لَهُ لَحٰفِظُونَ ۔۔۔ ہم ہی محافظ ہیں ۔ ( براہین احمد یہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۲۶۸ حاشیه در حاشیہ نمبر ۴)