تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 403
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰۳ سورة يوسف روحانی سلطنت میں مفسدہ پردازی کرتے ہیں ان کو کچل دیا جاتا ہے اور ذلیل کیا جاتا ہے اور روحانی طور پر ایک نیا سکہ بیٹھ جاتا ہے اور بالکل امن وامان کی حالت پیدا ہو جاتی ہے یہی وہ حالت اور درجہ ہے جو نفس مطمئنہ کہلاتا ہے اس لئے کہ اس وقت کسی قسم کی کشمکش اور کوئی فساد پایانہیں جاتا بلکہ نفس ایک کامل سکون اور اطمینان کی حالت میں ہوتا ہے کیونکہ جنگ کا خاتمہ ہو کر نئی سلطنت قائم ہو جاتی ہے اور کوئی فساد اور مفسدہ باقی نہیں رہتا بلکہ دل پر خدا کی فتح کامل ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ خود اس کے عرشِ دل پر نزول فرماتا ہے۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۳ مورخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۶ صفحه ۴) نفس امارہ اس کو کہتے ہیں کہ سوائے بدی کے اور کچھ چاہتا ہی نہیں جیسے فرمایا اللہ تعالیٰ نے : إِنَّ النَّفْسَ لامارة بالسوء یعنی نفس امارہ میں یہ خاصیت ہے کہ وہ انسان کو بدی کی طرف جھکاتا ہے اور نا پسندیدہ اور بد راہوں پر چلانا چاہتا ہے۔ جتنے بدکار چور ڈاکو دنیا میں پائے جاتے ہیں وہ سب اسی نفس کے ماتحت کام کرتے ہیں ۔ ایسا شخص جو نفس امارہ کے ماتحت ہو ہر ایک طرح کے بد کام کر لیتا ہے ۔۔۔۔۔ غرض جو انسان نفس امارہ کے تابع ہوتا ہے وہ ہر ایک بدی کو شیر مادر کی طرح سمجھتا ہے اور جب تک کہ وہ اسی حالت میں رہتا ہے بدیاں اس سے دور نہیں ہو سکتیں ۔ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴ مورخه ۱۴ جنوری ۱۹۰۸ صفحه (۲) انسان نفس امارہ کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے جب تک اللہ کا فضل اور توفیق اس کے شامل حال نہ ہو کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ لہذا انسان کو چاہیے کہ دعائیں کرتا رہے تا کہ خدا کی طرف اسے نیکی پر قدرت دی جاوے اور نفس امارہ کی قیدوں سے رہائی عطا کی جاوے۔ یہ انسان کا سخت دشمن ہے۔ اگر نفس امارہ نہ ہوتا تو شیطان بھی نہ ہوتا۔ یہ انسان کا اندرونی دشمن اور مار آستین ہے اور شیطان بیرونی دشمن ہے۔ قاعدہ کی بات ہے کہ جب چور کسی کے مکان میں نقب زنی کرتا ہے تو کسی گھر کے بھیدی اور واقف کا ر سے پہلے سازش کرنی ضروری ہوتی ہے بیرونی چور بجز اندرونی بھیدی کی سازش کے کچھ کر ہی نہیں سکتا اور کامیاب ہو ہی نہیں سکتا ۔ پس یہی وجہ ہے کہ شیطان بیرونی دشمن نفس امارہ اندرونی ، اور گھر کے بھیدی سے سازش کر کے ہی انسان کے متاع ایمان میں نقب زنی کرتا ہے اور نور ایمان کو غارت کرتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَما ابَرِّئُ نَفْسِي ۚ إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ یعنی میں اپنے نفس کو بری نہیں ٹھیراتا اور اس کی طرف سے مطمئن نہیں کہ نفس پاک ہو گیا ہے بلکہ یہ تو شریر الحکومت ہے۔ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۳ مورخه ۱۴ رمئی ۱۹۰۸ صفحه ۳، ۴) -