تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 402 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 402

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام لد ١٠ سورة يوسف ہے) اور سعی اور کوشش سے کرتا ہے ) کارآمد نہیں ہوتا جب تک خدا تعالیٰ کا فضل اور رحم ساتھ نہ ہو اور اصل تو یہ ہے کہ اصل زہد اور تقویٰ تو ہے ہی وہی جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے۔ حقیقی پاکیزگی اور حقیقی تقوی اسی طرح ملتا ہے۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۱ مورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۵ صفحه ۳) میں سچ کہتا ہوں کہ جب انسان نفس امارہ کے پنجہ میں گرفتار ہونے کے باوجود بھی تدبیروں میں لگا ہوا ہوتا ہے تو اس کا نفس امارہ خدا تعالیٰ کے نزدیک لوامہ ہو جاتا ہے اور ایسی قابلِ قدر تبد یلی پالیتا ہے کہ یا تو وہ امارہ تھا جو لعنت کے قابل تھا اور یا تدبیر اور تجویز کرنے سے وہی قابل لعنت نفس امارہ لوامہ ہو جاتا ہے جس کو یہ شرف حاصل ہے کہ خدا تعالیٰ بھی اس کی قسم کھاتا ہے۔ یہ کوئی چھوٹا شرف نہیں ہے۔ پس حقیقی تقوی اور طہارت کے حاصل کرنے کے واسطے اول یہ ضروری شرط ہے کہ جہاں تک بس چلے اور ممکن ہو تد بیر کرو اور بدی سے بچنے کی کوشش کرو۔ بد عادتوں اور بد صحبتوں کو ترک کر دو۔ ان مقامات کو چھور دو جو اس قسم کی تحریکوں کا موجب ہو سکیں جس قدر دنیا میں تدبیر کی راہ کھلی ہے اس قدر کوشش کرو اور اس سے نہ تھکو نہ ہٹو۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۱ مورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۵ء صفحه (۳) نفس کے تین درجہ ہیں نفس امارہ، لوامہ، مطمئنہ ۔ نفس امارہ وہ ہے جو فسق و فجور میں مبتلا ہے اور نافرمانی کا غلام ہے۔ ایسی حالت میں انسان نیکی کی طرف توجہ نہیں کرتا بلکہ اس کے اندر ایک سرکشی اور بغاوت پائی جاتی ہے لیکن جب اس سے کچھ ترقی کرتا اور نکلتا ہے تو وہ وہ حالت ہے جو نفس لوامہ کہلاتی ہے۔ اس لئے کہ وہ اگر بدی کرتا ہے تو اس سے شرمندہ بھی ہوتا ہے اور اپنے نفس کو ملامت بھی کرتا ہے اور اس طرح پر نیکی کی طرف بھی توجہ کرتا ہے لیکن اس حالت میں وہ کامل طور پر اپنے نفس پر غالب نہیں آتا بلکہ اس کے اور نفس کے درمیان ایک جنگ جاری رہتی ہے جس میں کبھی وہ غالب آجاتا ہے اور کبھی نفس اسے مغلوب کر لیتا ہے۔ یہ سلسلہ لڑائی کا بدستور جاری رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا فضل اس کی دستگیری کرتا ہے اور آخر اسے کامیاب اور بامراد کرتا ہے اور وہ اپنے نفس پر فتح پالیتا ہے پھر تیسری حالت میں پہنچ جاتا ہے جس کا نام نفس مطمئنہ نفس مطمئنہ کی ہے۔ اس وقت اس کے نفس کے تمام گند دور ہو جاتے ہیں اور ہر قسم کے فسادمٹ جاتے ہیں۔ نفس من آخری حالت ایسی حالت ہوتی ہے جیسے دو سلطنتوں کے درمیان ایک جنگ ہو کر ایک فتح پالے اور وہ تمام مفسدہ دور کر کے امن قائم کرے اور پہلا سارا نقشہ ہی بدل جاتا ہے ۔۔۔۔۔ جب روحانی سلطنت بدلتی ہے تو پہلی سلطنت پر تباہی آتی ہے۔ شیطان کے غلاموں کو قابو کیا جاتا ہے۔ وہ جذبات اور شہوات جو انسان کی