تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 355 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 355

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۵۵ سورة يونس سے نہیں آئے گا۔ پھر صحیح بخاری جلد نمبر ۴ صفحہ ۱۰۶ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قسموں کا ایک باب باندھا ہے۔ اس باب میں بہت سی قسمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لکھی ہیں جو دس سے کم نہیں ۔ ایسا ہی صحیح نسائی جلد ثانی صفحه ۱۳۸ کتاب الایمان والنذور میں صفحہ ۱۳۹ تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قسموں کا ذکر ہے۔ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : يَسْتَنْبُونَكَ أَحَقُّ هُوَ قُلْ إِنْ وَرَبِّي إِنَّهُ لَحَقُّ یعنی تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ حق ہے کہہ مجھے خدا کی قسم ہے کہ یہ حق ہے۔ ایسا ہی قرن شریف میں یہ آیت ہے : وَاحْفَظُوا أَيْمَانَكُمْ (المائدة : ٩٠) یعنی جب تم قسم کھاؤ تو جھوٹ اور بد عہدی اور بد نیتی سے اپنی قسم کو بچاؤ۔ ایسا ہی قرآن شریف میں یہ آیت بھی ہے : أَرْبَعُ شَهَدَتِ بِاللهِ إِنَّهُ لَمِنَ الصُّدِقِينَ وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَتَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَذِبِينَ ( النور : ۷ (۸) یعنی شخص ملزم چار قسمیں خدا کی کھائے کہ وہ سچا ہے اور پانچویں قسم میں یہ کہے کہ اس پر خدا کی لعنت ہوا گر وہ جھوٹا ہے۔ مجموعه اشتہارات جلد دوم صفحه ۶۲۵ حاشیه ) اور تجھ سے یہ پوچھتے ہیں کہ کیا یہ بات سچ ہے۔ کہہ ہاں مجھے اپنے رب کی قسم ہے کہ یہ سچ ہے اور تم اس بات کو وقوع میں آنے سے روک نہیں سکتے ۔ تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ حق ہے۔ کہہ مجھے خدا کی قسم ہے کہ یہ حق ہے۔ مکتوبات احمد جلد اول صفحہ ۶۳۸) الحکم جلد ۸ نمبر ۲۲ مورخہ ۱۰ جولائی ۱۹۰۴ صفحہ ۷ ) يَأَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَتْكُم مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَشِفَاءُ لِمَا فِي الصُّدُورِ وَ هُدًى وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ ۔ قرآن میں دلوں کو روشن کرنے کے لئے ایک روحانی خاصیت بھی ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے: شفاء لما في الصُّدُورِ یعنی قرآن اپنی خاصیت سے تمام بیماریوں کو دور کرتا ہے اس لئے اس کو منقولی کتاب نہیں کہہ سکتے بلکہ وہ اعلیٰ درجہ کے معقول دلائل اپنے ساتھ رکھتا ہے اور ایک چمکتا ہو انور اس میں پایا جاتا ہے۔ اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۳۳) یہ قرآن ظلمت سے نور کی طرف نکالتا ہے ۔ اور اس میں تمام بیماریوں کی شفاء ہے اور طرح طرح کی برکتیں یعنی معارف اور انسانوں کو فائدہ پہنچانے والے امور اس میں بھرے ہوئے ہیں ۔ (کرامات الصادقین، روحانی خزائن جلدے صفحہ ۵۹)