تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 354 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 354

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۵۴ سورة يونس رکھے۔ جب اجل بلا آجاتی ہے تو پھر آگے پیچھے نہیں ہوا کرتی۔ انسان کو چاہئے کہ پہلے ہی سے خدا کے ساتھ تعلق الحکم جلد ا انمبر ۳۴ مورخہ ۲۴ ستمبر ۱۹۰۷ ء صفحه ۳) موت جب آتی ہے تو نا گہانی طور پر آجاتی ہے۔ انسان کہیں اور تدبیروں اور دھندوں میں پھنسا ہوا ہوتا ہے کہ یہ کام اس طرح ہو جاوے۔ یہ ایسے ہو جاوے اور اوپر سے موت آجاتی ہے اور پھر : لا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ والا معاملہ ہوتا ہے۔ الحکم جلد ا ا نمبر ۳۴ مورخہ ۲۴ ستمبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۹) جب عذاب الہی نازل ہو جاتا ہے تو پھر اس کا ٹلنا محال ہو جاتا ہے اور پھر وہ اپنا کام کر کے ہی جاتا ہے اور اس آیت سے یہ بھی استنباط ہوتا ہے کہ قبل از نزول عذاب تو بہ واستغفار سے وہ عذاب ٹل بھی جایا کرتا الحکم جلد ۷ نمبر ۱۳ مورخہ ۱۰ را پریل ۱۹۰۳ ء صفحہ ۱۱) ہے۔ وَ يَسْتَنْبِتُونَكَ أَحَقُّ هُوَ قُلْ إِني وَ رَبِّي إِنَّهُ لَحَقُّ وَمَا أَنْتُمْ بِمُعْجِزِينَ اور تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ سچ بات ہے؟ کہہ، ہاں ! مجھے قسم ہے اپنے رب کی کہ یہ سچ ہے اور تم خدائے تعالیٰ کو اس کے وعدوں سے روک نہیں سکتے ۔ ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۴۴۳) اور رتجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ بات سچ ہے؟ کہ، ہاں! مجھے اپنے رب کی قسم ہے کہ یہ سچ ہے اور تم اس بات کو وقوع میں آنے سے روک نہیں سکتے۔ آسمانی فیصلہ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۳۵۰) یہ امر بالکل غلط ہے کہ اسلام میں قسم کھانا منع ہے ۔ تمام نیک انسان مسلمانوں میں سے ضرورتوں کے وقت قسم کھاتے آئے ہیں ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی ضرورتوں کے وقت قسم کھائی۔ ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بارہا قسمیں کھائی ۔ خود خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں قسمیں کھائیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں مجرموں کو قسمیں دلائی گئیں ۔ قسموں کا قرآن شریف میں صریح ذکر ہے۔ شریعت اسلام میں جب کسی اور ثبوت کا دروازہ بند ہو یا پیچیدہ ہو تو قسم پر مدار رکھا جاتا ہے اور صحیح البخاری جو بعد کتاب اللہ اصح الکتب ہے اس میں لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو مخاطب کر کے قسم کھا کر فرمایا کہ مسیح موعود جو آنے والا ہے جو تمہارا امام ہو گا وہ تم میں سے ہی ہوگا یعنی اسی امت میں سے ہوگا، آسمان ا صحیح بخاری کتاب الانبیاء باب نزول عیسی ابن مریم علیہما السلام