تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 236
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۳۶ سورة الاعراف اور تجلی کی اس کے رب نے پہاڑ پر یعنی مشکلات کے پہاڑ پر اور کر دیا اس کو پاش پاش اور گراموسی بیہوش ہو کر ۔ یعنی ایسی تجلی ہیبت ناک تھی کہ اس کی ہیبت کا اثر موسیٰ پر بھی پڑا۔ البدر جلد نمبر ۲ مورخه ۱۳ را پریل ۱۹۰۵ء صفحه (۲) جب خدا پہاڑ پر تجلی کرے گا تو اس کو پارہ پارہ کر دے گا۔ (تبلیغ رسالت مجموعه اشتہارات جلد ۱۰ صفحه ۹۱ ۹۲) جب طالب کمال وصال کا خدا کے لیے اپنے تمام وجود سے الگ ہو جاتا ہے اور کوئی حرکت اور سکون اس کا اپنے لیے نہیں رہتا بلکہ سب کچھ خدا کے لیے ہو جاتا ہے تو اس حالت میں اس کو ایک روحانی موت پیش آتی ہے جو بقا کو مسلتزم ہے پس اس حالت میں گویا وہ بعد موت کے زندہ کیا جاتا ہے اور غیر اللہ کا وجود اس کی آنکھ میں باقی نہیں رہتا یہاں تک کہ غلبہ مشہود ہستی الہی سے وہ اپنے وجود کو بھی نابود ہی خیال کرتا ہے پس یہ مقام عبودیت و فناء اتم ہے جو غایت سیر اولیاء ہے اور اسی مقام میں غیب باذن اللہ ایک نور سالک کے قلب پر نازل ہوتا ہے جو تقریر اور تحریر سے باہر ہے۔ غلبہ شہود کی ایک ایسی حالت ہے کہ جو علم الیقین اور عین الیقین کے مرتبہ سے برتر ہے۔ صاحب شہود تام کو ایک علم تو ہے مگر ایسا علم جو اپنے ہی نفس پر وارد ہو گیا ہے جیسے کوئی آگ میں جل رہا ہے۔ سواگر چہ وہ بھی جلنے کا ایک علم رکھتا ہے مگر وہ علم الیقین اور عین الیقین سے برتر ہے۔ کبھی شہود تام بے خبری تک بھی نوبت پہنچا دیتا اور حالت سکر اور بیہوشی کی غلبہ کرتی ہے اس حالت سے یہ آیت مشابہ ہے : فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكَّا وَ خَرَّ مُوسى صَعِقًا لیکن حالت تام وہ ہے جس کی طرف اشارہ ہے : مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى (النجم : ۱۸) ۔ یہ حالت اہل جنت کے نصیب ہوگی ۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۳۵ مورخه ۱۰ را کتوبر ۱۹۰۵ صفحه ۸ حاشیه ) موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کا بیہوش ہو کر گرنا ایک واقعہ نورانی تھا جس کا موجب کوئی جسمانی ظلمت نہ تھی بلکہ تجلیات صفات الہیہ جو بغایت انشراق ظہور میں آئی تھیں ۔ وہی اس کا موجب اور باعث تھیں جن کے انشراق تام کی وجہ سے ایک عاجز بندہ عمران کا بیٹا بیہوش ہو کر گر پڑا اور اگر عنایت الہیہ اس کا تدارک نہ کرتی تو اسی حالت میں گزر ہو کر نا بود ہو جاتا۔ مگر یہ مرتبہ ترقیات کاملہ کا انتہائی درجہ نہیں ہے۔ انتہائی درجہ وہ ہے جس کی نسبت لکھا ہے مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى (الحکم جلد ۲ نمبر ۳۱ مورخه ۱۵ اکتوبر ۱۸۹۸ صفحه ۳) وَاتَّخَذَ قَوْمُ مُوسَى مِنْ بَعْدِهِ مِنْ حُلِيْهِمْ عِجْلًا جَسَدَ اللَّهُ خُوَارٌ أَلَمْ يَرَوْا