تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 235
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۳۵ سورة الاعراف کا نتیجہ بتاتے ہیں لیکن مبتلا خود ہوتے ہیں حالانکہ اگر ہماری شامت اعمال تھی تو چاہیے تھا کہ طاعون کی خبر تم کو دی جاتی مگر یہ کیا ہوا کہ خبر بھی ہم کو دی گئی اور موتیں تم میں ہوتی ہیں بر خلاف اس کے کہ ہماری حفاظت کا وعدہ کیا جاتا اور اسے ایک نشان ٹھہرایا جاتا ہے۔ کچھ تو خدا سے ڈرو۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۷ ۳ مورخہ ۱۷ اکتوبر ۱۹۰۲ صفحه ۱۳) وَ وَعَدْنَا مُوسَى ثَلْثِينَ لَيْلَةً وَ أَتْمَمْنُهَا بِعَشْرِ فَتَمَّ مِيقَاتُ رَبِّهَ ارْبَعِينَ لَيْلَةً ۚ وَقَالَ مُوسَى لِأَخِيهِ هُرُونَ اخْلُفْنِي فِي قَوْمِي وَ أَصْلِحُ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ ۔ پھر ہم کہتے ہیں کہ جس حالت میں وعدہ کی تاریخ ٹلنا نصوص قرآنیہ قطعیہ یقینیہ سے ثابت ہے جیسا کہ آیت : وَ وَعَدْنَا مُوسَى ثَلْثِينَ لَيْلَةً اس کی شاہد ناطق ہے تو وعید کی تاریخیں جو نزول عذاب پر دال ہوتی ہیں جس کا ٹلنا اور رد بلا ہونا تو بہ اور استغفار اور صدقات سے باتفاق جمیع انبیاء علیہم السلام ثابت ہے پس ان تاریخوں کا ٹلنا بوجہ اولی ثابت ہوا اور اس سے انکار کرنا صرف سفیہ اور نادان کا کام ہے نہ کسی صاحب بصیرت کا۔ (انوار الاسلام ، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۱۱۹ ، ۱۲۰) وَ لَمَّا جَاءَ مُوسَى لِمِيقَاتِنَا وَكَلَّمَهُ رَبُّهُ قَالَ رَبِّ أَرِنِي أَنْظُرُ إِلَيْكَ قَالَ لَنْ تَرَينِي وَلَكِنِ انْظُرُ إِلَى الْجَبَلِ فَإِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهُ فَسَوْفَ تَرَينِي فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكَّا وَ خَرَّ مُوسَى صَعِقًا فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ سُبْحَنَكَ تُبْتُ إِلَيْكَ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَنا ۔۔۔۔۔۔ پس جب کہ خدا نے پہاڑ پر تجلی کی تو اس کو پاش پاش کر دیا یعنی مشکلات کے پہاڑ آسان ہوئے ۔ ( براہین احمدیہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۶۱۵ ،۶۱۶ حاشیه در حاشیہ نمبر (۳) جب خدا مشکلات کے پہاڑ پر تجلی کرے گا تو انہیں پاش پاش کر دے گا۔ ( براہین احمدیہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۶۵ حاشیه در حاشیہ نمبر ۴)