تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 237 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 237

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۳۷ سورة الاعراف أَنَّهُ لَا يُكَلِّمُهُمْ وَلَا يَهْدِيهِمْ سَبِيلًا اتَّخَذُوهُ وَ كَانُوا ظَلِمِينَ ۔ جب لیکھرام نے نہایت اصرار کے ساتھ اپنی موت کے لئے مجھ سے پیشگوئی چاہی تو مجھے دعا کے بعد یہ الہام ہوا : عِجْلٌ جَسَدُ لَهُ خُوَارٌ - لَهُ نَصَبٌ وَعَذَابٌ یعنی یہ ایک بے جان گوسالہ ہے جس میں مارے جانے کے وقت گوسالہ کی طرح ایک آواز نکلے گی اور اس میں جان نہیں اور اس کے لئے نصب اور عذاب ہے۔ لسان العرب میں جو لغت عرب میں ایک پرانی اور معتبر کتاب ہے لفظ نصب کے معنے علاوہ اور کئی معنوں کے ایک یہ بھی لکھے ہیں کہ جب کہا جائے نَصَبَ فُلَانٌ لِفُلان تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ کسی شخص نے اس شخص پر جان لینے کے لئے حملہ کیا اور دشمنی کی راہ سے اس کے فنا کرنے کے لئے پوری پوری کوشش کی۔ چنانچہ لسان العرب کے اس مقام میں اپنے لفظ یہ ہیں : نَصَبَ فُلَانٌ لِفُلَانٍ نَصَبًا إِذَا قَصَدَلَهُ وَعَادَاهُ وَتَجَرَّدَ لَهُ جس کے یہی معنے ہیں جو او پر کئے گئے۔ دیکھولسان العرب لفظ نصب صفحه ۲۵۸ سطر نمبر ۲ اور خوار کا لفظ لغت عرب میں گوسالہ کی آواز کے لئے آتا ہے۔ لیکن جب انسان پر اس لفظ کو استعمال کرتے ہیں تو اُس موقع پر کرتے ہیں جبکہ کوئی مقتول قتل ہونے کے وقت گوسالہ کی طرح آواز نکالتا ہے جیسا کہ اُسی لسان العرب میں خوار کے لفظ کے بیان میں صفحہ ۳۴۵ میں ان معنوں کی تصدیق کے لئے ایک حدیث لکھی ہے اور وہ یہ ہے : وَفِي حَدِيثِ مَقْتَلِ أُبي بْنِ خَلْفٍ فَخَرَّ يَخُورُ كَمَا يَخُورُ الثَّوْرُ الفظ عرب کی یعنی جب ابی بن خلف قتل کیا گیا تو یوں آواز نکالتا تھا جیسا کہ بیل آواز نکالتا ہے اور کبھی خوار کا لفظ عر زبان میں اس ہتھیار کی آواز پر بولا جاتا ہے جو چلایا جاتا ہے۔ چنانچہ لسان العرب کے اُسی صفحہ ۳۴۵ میں ایک نامی شاعر عرب کا اس محاورہ کے حوالہ میں ایک شعر لکھا ہے اور وہ یہ ہے : يَخْرُنَ إِذَا أُنْفِذُنَ فِي سَاقِطِ النَّدَى وَإِنْ كَانَ يَوْمًا ذَا أَهَا ضِيْبَ مُخْضِلًا یعنی اُن تیروں میں سے جو چلائے جاتے ہیں اور پھر نکالے جاتے ہیں گوسالہ کی آواز کی طرح ایک آواز آتی ہے۔ اگر چہ ایسا دن ہو جس میں متواتر بارش ہوئی ہو اور ہر ایک چیز کو تر کر دیتا ہو ۔ ۔۔۔۔۔ غرض اس نہایت معتبر کتاب سے جولسان العرب ہے ثابت ہوتا ہے کہ خود اور خوار کے لفظ کو انسان پر اس حالت میں بھی بولتے ہیں کہ جب و قتل ہونے کے وقت فریاد کرتا ہے اور قتل کرنے کے وقت جو ہتھیار کی آواز ہوتی