تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 234
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۳۴ سورة الاعراف طرح نیک اور عادل بادشاہ بھی بنے جیسا کہ عمر بن عبدالعزیز ۔ (تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۳۰۷،۳۰۶) ایک جگہ مسلمانوں کے آخری زمانہ کے لیے قرآن شریف نے وہ لفظ استعمال کیا ہے جو یہود کے لیے استعمال کیا تھا یعنی فرما یا فینظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ ۔ جس کے یہ معنے ہیں کہ تم کو خلافت اور سلطنت دی جائے گی مگر آخری زمانہ میں تمہاری بداعمالی کی وجہ سے وہ سلطنت تم سے چھین لی جائے گی جیسا کہ یہودیوں سے چھین لی گئی تھی ۔ حضرت اقدس نے فرمایا : لیکچر سیالکوٹ ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۲۱۳) وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِي الْأَرْضِ فَيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ ۔ یہ آیتیں بھی اس کی طرف اشارہ کرتی ہیں ایک ان میں سے اہل اسلام کی نسبت ہے اور ایک یہود کی نسبت ۔ پس مقابلہ سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں ہر طرح کا انعام کروں گا اور پھر دیکھوں گا کہ کس طرح شکر کرتے ہو۔ اب دیکھنے والی بات یہ ہے کہ اہل یہود کو کون سی بڑی مصیبت تھی تو وہ دو بڑی مصیبتیں ہیں ایک یہ کہ عیسی علیہ السلام کا انکار کیا گیا اور ایک یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کیا گیا پس مماثلت کے لحاظ سے مسلمانوں کے لیے بھی وہی دو انکار لکھے تھے۔ مگر وہاں شمار میں الگ الگ دو وجود تھے اور یہاں نام الگ الگ ہیں مگر وہ وجود جس میں ان دونوں کا بروز ہو ایک ہی ہے ایک بروز عیسوی اور ایک محمدی اور صرف نام کے لحاظ سے اہل اسلام یہود کے بروز اس طرح سے قرار پائے کہ انہوں نے مسیح اور محمد ص اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کر دیا اور وہ مماثلت پوری ہو گئی اور آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ اس امت میں بروزی طور پر وہی کرتوت یہودیوں والی پوری ہونی تھی اور یہ اس طرف اشارہ کرتی تھیں کہ آنے والا دو رنگ لے کر آوے گا اسی لیے مہدی اور مسیح کے زمانہ کی علامات ایک ہی ہیں اور ان دونوں کا فعل بھی ایک ہی ( ہے )۔ (البدر جلد ۲ نمبر ۳۳ مورخه ۴ ستمبر ۱۹۰۳ ء صفحه ۳۵۹،۳۵۸) فَإِذَا جَاءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوا لَنَا هَذِهِ ۚ وَ إِنْ تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَطَّيَّرُوا بِمُوسَى وَ مَنْ مَّعَهُ اَلَّا إِنَّمَا ظَهِرُهُمْ عِنْدَ اللهِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ) بعض آدمیوں نے کہا کہ یہ طاعون گویا ہماری شامت اعمال کا نتیجہ ہے یہ آواز کوئی نئی آواز نہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھی کہا گیا تھا تطيرنا بموسیٰ مگر مجھے یہ تعجب ہے کہ یہ لوگ طاعون کو ہماری شامت اعمال