تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 160
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام حدود معلوم ہیں ۔ ۱۶۰ سورة الانعام ( شحنه حق ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۳۹۸) خدا کی اصل حقیقت کا اندازہ کسی کو معلوم نہیں صرف سماعی باتوں پر مدار رہا مطلب یہ کہ ایمان کے طور پر خدا کو مانا گیا مگر اصل کنہ اس کی کسی کو معلوم نہ ہوئی ۔۔۔۔۔۔ لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ یعنی خدا کو آنکھیں نہیں پاسکتیں اور وہ آنکھوں کو پا سکتا ہے اور یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی کنہ کوئی عقل دریافت نہیں کر سکتی ۔ ست بچن، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۲۷) خدا تعالیٰ کی ذات تو مخفی در مخفی اور غیب در غیب اور وراء الوراء ہے اور کوئی عقل اس کو دریافت نہیں کر سکتی جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے: لا تُدْرِكْهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ یعنی بصارتیں اور بصیرتیں اس کو بیا اس کو پانہیں سکتیں اور وہ اُن کے انتہا کو جانتا ہے اور اُن پر غالب ہے۔ پس اُس کی توحید محض عقل کے ذریعہ سے غیر ممکن ہے کیونکہ توحید کی حقیقت یہ ہے کہ جیسا کہ انسان آفاقی باطل معبودوں سے کنارہ کرتا ہے یعنی بُتوں یا انسانوں یا سورج چاند وغیرہ کی پرستش سے دستکش ہوتا ہے۔ ایسا ہی انفسی باطل معبودوں سے پر ہیز کرے یعنی اپنی روحانی جسمانی طاقتوں پر بھروسہ کرنے سے اور اُن کے ذریعہ سے تعجب کی بلا میں گرفتار ہونے سے اپنے تئیں بچاوے۔ پس اس صورت میں ظاہر ہے کہ بجز ترک خودی اور رسول کا دامن پکڑنے کے توحید کامل حاصل نہیں ہو سکتی ۔ اور جو شخص اپنی کسی قوت کو شریک باری ٹھہراتا ہے وہ کیونکر موحد کہلا سکتا ہے۔ ( حقیقة الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۷ ۱۴ ، ۱۴۸) وہ غیر محدود ہے جیسا جیسا کہ اس آیت میں لکھا ہے : لا تُدْرِكْهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ یعنی آنکھیں اس کے انتہا کو نہیں پاسکتیں اور وہ آنکھوں کے انتہا تک پہنچتا ہے۔ چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۹۷) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ اس جگہ بظاہر انکار دیدار ہے اور اس کے مخالف یہ آیت ہے إلى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ ( القيامة : ۲۴) اس سے دیدار ثابت ہوتا ہے سو سیچ اور یحییٰ کے کلمات میں اسی قسم کا تناقض ہے جو دراصل تناقض نہیں ایک نے مجاز کو ذہن میں رکھا اور دوسرے نے حقیقت کو اس لیے کچھ تناقض نہ ہوا۔ تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۴۶۳ حاشیه ) خدا کے کلام میں دقیق نظر کرنے سے پتہ لگتا ہے کہ وہ ازلی اور ابدی ہے اور مخلوقات کی ترتیب اس کے