تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 161
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۶۱ سورة الانعام از لی ہونے کی مخالف نہیں ہے اور استعارات کو ظاہر پر حمل کر کے مشہودات پر لانا بھی ایک نادانی ہے۔ اس کی صفت ہے : لا تُدْرِكْهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ البدر جلد ۲ نمبر ۵ مورخه ۲۰ فروری ۱۹۰۳ ء صفحه ۳۸) خدا کی کنہ میں ہم دخل نہیں دے سکتے ۔ اسلم طریق یہی ہے کہ انسان لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ پر ایمان رکھے کہ میرا منصب نہیں کہ خدا کی کل صفات کو میں دیکھ لوں اور ان کی تحقیقات کرلوں ۔ ہم خدا پر چھوڑ دیں۔ طبیب بیان کرتے ہیں کہ پانی سرد اور آگ گرم ہے مگر یہ نہیں بتلا سکتے کہ پانی سرد کیوں ہے اور آگ گرم کیوں ہے؟ فلاسفر بھی یہاں گنہ اشیا میں آکر عاجز رہ گئے ہیں ۔ یہاں اُفَوِّضُ أَمْرِی إِلَى اللهِ پر چلے کہ الحکم جلد ۶ نمبر ۳۸ مورخه ۲۴ اکتوبر ۱۹۰۲ صفحه (۸) حقیقت میں محبت کے ثمرات میں سے نفی وجود ضروری ہے۔ اس پر اعتراض نہیں ہو سکتا بلکہ قرآن شریف سے یہ صحیح معلوم ہوتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جو فنا فی اللہ کہلاتا ہے لیکن وجودیوں کا یہ حال نہیں ان کا تو یہ حال ہے کہ گویا انہوں نے ڈاکٹروں کی طرح تشریح کر کے خدا تعالیٰ کو دیکھ لیا ہے۔ تب ہی تو یہ خود بھی خدا بنتے ہیں حالانکہ یہ صریح غلط اور بے ہودہ امر ہے۔ اللہ تعالیٰ تو صاف فرماتا ہے : لَا تُدْرِكْهُ الْأَبْصَارُ ۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۳۵ مورخه ۱۰ اکتوبر ۱۹۰۵ صفحه (۸) بجز اس طریق کے کہ خدا خود ہی تجلی کرے اور کوئی دوسرا طریق نہیں ہے جس سے اس کی ذات پر یقین کامل حاصل ہو لا تُدْرِكْهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ سے بھی یہ سمجھ میں آتا ہے کہ ابصار پر وہ آپ ہی روشنی ڈالے تو ڈالے۔ ابصار کی مجال نہیں ہے کہ خود اپنی قوت سے اسے شناخت کر لیں۔ البدر جلد ۲ نمبر ۷ ۴ مورخہ ۱۶ دسمبر ۱۹۰۳ ء صفحه ۳۷۳) لا تُدْرِكْهُ الْأَبْصَارُ کے یہی معنے ہیں کہ وہ صرف عقلوں کے ذریعہ سے شناخت نہیں کیا جا سکتا بلکہ خود جو ذریعہ (اس) نے بتلائے ہیں ان سے ہی اپنے وجود کو شناخت کرواتا ہے اور اس امر کے لیے اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ جیسی اور کوئی دعا نہیں ہے۔ (البدر جلد ۳ نمبر ۱۰ مورخه ۸ مارچ ۱۹۰۴ و صفحه ۷ ) قَدْ جَاءَ كُمُ بَصَابِرُ مِنْ رَبِّكُمْ فَمَنْ أَبْصَرَ فَلِنَفْسِهِ ۚ وَمَنْ عَى فَعَلَيْهَا وَمَا