تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 159 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 159

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۹ سورة الانعام سُبْحَنَهُ وَ تَعْلَى عَمَّا يَصِفُونَ ۔۔۔۔۔ خدا تعالیٰ ان عیبوں سے پاک و برتر ہے جو وہ لوگ اس کی ذات پر لگاتے ہیں ۔ براہینِ احمد یہ چہار قصص، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۶۰۶ حاشیه در حاشیہ نمبر (۳) اور مشرک لوگ ایسے نادان ہیں کہ جنات کو خدا کا شریک ٹھہرا رکھا ہے اور اس کے لیے بغیر کسی علم اور ( براہین احمد یہ چهار تصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۵۲۴ حاشیه در حاشیه نمبر ۳) اطلاع حقیقت حال کے بیٹے اور بیٹیاں تراش رکھی ہیں۔ ( عرب صاحب نے عرض کیا کہ خدا آسمان پر ہے فرمایا : ) اللہ تعالیٰ ہر چیز کا مالک ہے لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنى ( طه : ۹) اس نے اپنے آپ کو علو ہی سے منسوب کیا ہے پستی کی طرف اس کو منسوب نہیں کر سکتے سبحانہ وتعالیٰ ۔ علو کو ہم مشاہدہ کرتے ہیں اور کشفی صورتوں میں آسمان سے نور نازل ہوتا ہوا دیکھا ہے گو ہم اس کی کنہ اور کیفیت بیان نہ کر سکیں مگر یہ سچی بات ہے کہ اس کو غلو ہی سے تعلق ہے بعض امور آنکھوں سے نظر آتے ہیں اور بعض نہیں ہرصورت میں فلسفہ کام نہیں آتا پس اصل بات یہی ہے کہ ایک وقت ایسی حالت انسان پر آتی ہے کہ وہ محسوس کرتا ہے کہ آسمان سے اس کے دل پر کچھ گرا ہے جو اسے رقیق کر دیتا ہے اس وقت نیکی کا بیج اس میں بویا جائے گا۔ الحکم جلدے نمبر ۱ مورخہ ۱۰ جنوری ۱۹۰۳ ء صفحہ ۱۱) بَدِيعُ السَّمَواتِ وَالْأَرْضِ أَنَّى يَكُونُ لَهُ وَلَدٌ وَ لَمْ تَكُنْ لَهُ صَاحِبَةً وَ خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ لفظ کل کے ساتھ جو احاطہ تامہ کے لیے آتا ہے ہر ایک چیز کو جو اس کے سوا ہے مخلوق میں داخل کر دیا۔ چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۱۶۵) لَا تُدْرِكْهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ آنکھیں اس کی کنہ دریافت کرنے سے کرنے سے عاجز ہیں اور اس اور اس کو آنکھوں کی کنہ معلوم ہے۔ ( براہین احمد یہ چهار تصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۵۲۱ حاشیه در حاشیه نمبر ۳) اس کی مانند کوئی بھی چیز نہیں بصارتیں اور بصیرتیں اس کی کنہ کو نہیں پہنچ سکتیں اور اس کو ہر یک نظر اور فکر کی