تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 155 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 155

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۵ سورة الانعام الْمَوْصُوفَةَ وَالْإِشَارَاتِ الْمَلْفُوفَةَ مجھے مشاہدہ ہوا جو رب العالمین ہے اور میرے پر کھولا گیا تَهْدِى إِلَى فَضَائِلِ الْعَرَبِيَّةِ وَتُشِيرُ إلى کہ آیت موصوفہ اور اشارات ملفوفہ عربی کے فضائل کی أَنَّهَا أُمُّ الْأَلْسِنَةِ وَأَنَّ الْقُرْآنَ اُم طرف ہدایت کرتی ہیں اور اس بات کی طرف اشارہ کرتی الْكُتُبِ السَّابِقَةِ وَأَنَّ مَكَّةَ أُمُّ ہیں کہ وہ ام الالسنہ ہے اور قرآن پہلی کتابوں کا اُم یعنی الْأَرْضِينَ فَاقْتَادَنِي بُرُوقُ هَذِهِ الْآيَةِ اصل ہے اور مکہ تمام زمین کا اُم ہے۔ سو مجھے اس آیت کی إلى أنواع التَّنَطْسِ وَالدِّرَايَةِ وَفَهِمْتُ روشنی نے طرح طرح کے فہم اور درایت کی طرف کھینچا اور سِرَّ نُزُولِ الْقُرْآنِ فِي هَذَا اللَّسَانِ وَسِر مجھے یہ بھید سمجھ آ گیا کہ قرآن کیوں عربی زبان میں نازل خَتْمِ النُّبُوَّةِ عَلَى خَيْرِ الْبَرِيَّةِ وَ خَتْم ہوا اور یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جو نبوت ختم ہوئی الْمُرْسَلِينَ ثُمَّ ظَهَرَتْ عَلَى ايَاتُ اس میں بھید کیا ہے پھر میرے پر اور آیتیں ظاہر ہوئیں اور أُخْرَى وَ أَيَّدَ بَعْضُهَا بَعْضًا تَقْرًا حَتَّى بعض نے بعض کی متواتر مدد کی یہاں تک کہ میرے خدا جرني رَبِّي إِلى حَقَّ الْيَقِينِ وَأَدْخَلَنِي فِي نے حق الیقین تک مجھے کھینچ لیا اور یقین کرنے والوں میں الْمُسْتَيْقِنِينَ وَظَهَرَ عَلَى أَنَّ الْقُرْآنَ هُوَ مجھے داخل کیا اور میرے پر ظاہر ہو گیا کہ قرآن ہی پہلی تمام أم الكتب الأولى وَالْعَرَبِيَّةَ ام کتابوں کی ماں ہے اور ایسا ہی عربی تمام زبانوں کی ماں الْأَلْسِنَةِ مِنَ اللهِ الْأَعْلَى وَ أَمَّا الْبَاقِيَّةَ اور خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور باقی زبانیں اس کی بیٹے مِنَ اللُّغَاتِ فَهِيَ لَهَا كَالْبَنِينَ بیٹیوں کی طرح ہیں اور کچھ شک نہیں کہ وہ تمام زبانیں اس أَوِ الْبَنَاتِ وَلَا شَكَ أَنَّهَا كَمِثْلِ وَلَدِهَا کے فرزندوں یا خانہ زاد کنیزکوں کی طرح ہیں اور ہر یک أَوْ وَلَا بِدِهَا وَكُلٌّ يَأْكُلُ مِنْ أَعْشَارِهَا اس کی دیگوں اور اسی کے خوان میں سے کھا رہا ہے اور وَمَوَائِدِهَا وَكُلٌّ يَجْتَنُونَ فَاكِهَةَ هَذِهِ ہریک اس کے پھل چکھ رہا ہے اور اسی خوان سے اپنے اللُّهْجَةِ وَيَمْلَأُونَ الْبُطُونَ بِتِلْكَ پیٹ بھر رہے ہیں اور اسی دریا سے پانی پی رہے ہیں اور الْمَائِدَةِ وَ يَشْرَبُونَ مِنْ تِلْكَ اللُّجَّةِ وَ اسی حلہ سے انہوں نے اپنا لباس بنایا ہے اور وہ ان کی يَتَّخِذُونَ لِبَاسًا مِنْ هَذِهِ الْحُلَّةِ فَهِی مربی ہے جس نے بعاریت ان کو لباس دیا اور اپنی ذات مُرَبِّيَةٌ أَغَارَهَا النَّسْتَ۔ وَاخْتَارَ کے لیے مسند اختیار کیا اور یہ بات کہ اگر عربی ام الالسنہ ہی لِنَفْسِهَا النَّسْتَ وَأَمَّا اخْتِلَافُ ہے تو زبانوں کی ترکیبوں میں کیوں اختلاف ہے تو یہ کچھ