تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 156 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 156

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۶ سورة الانعام الْأَلْسِنَةِ فِي صُوَرِ التَّرْكِيبِ فَلَيْسَ مِن عجیب بات نہیں اور اسی طرح جو اختلاف تصریف اور الْعَجِيْبِ وَكَذلِكَ الْإِخْتِلافُ في اطراد مواد میں ہے وہ بھی عدم اتحاد کی دلیل نہیں ٹھہر سکتا التَّصْرِيفِ وَأَطْرَادِ الْمَوَادِ لَيْسَ مِنْ اور اگر یہ تھوڑا سا اختلاف بھی جو ترکیبات کا اختلاف ہے دَلَابِلِ عَدُمِ الْإِبْحَادِ وَلَوْلَا اخْتِلَاف لغات میں باقی نہ رہے تو وہ تغایر درمیان سے اٹھ جائے گا بِهَذَا الْقَدْرِ فِي التَّرْكِيبَاتِ لَا مُتَنَعَ تَغَائِرُ جو کثرت لغات کا موجب ہے کیونکہ مختلف ترکیبوں کا يُوجِبُ كَثْرَةَ اللُّغَاتِ فَإِنَّ وُجُودَ زبانوں میں پایا جانا ہی تو وہ امر ہے جس نے زبانوں کی التَّرَاكِيْبِ الْمُخْتَلِفَةِ هُوَ الَّذِي غَيْرَ صُوَرَ صورت کو متغایر کر رکھا ہے اور وہی تو زبانوں کے تفرقہ کا الْأَلْسِنَةِ وَهُوَ السَّبَبُ الْأَوَّلُ لِلتَّفْرِقَةِ پہلا سبب ہے پس کسی معترض کے لیے جائز نہیں جو ایسے فَلَا يَسُوغُ لِمُعْتَرِضُ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِمِثْلِ کے منہ پر لاوے اور ایسے اعتراضات کی گنجائش کہاں هَذِهِ الْكَلِمَاتِ وَ أَيْنَ مُنْتَدِحَةُ هَذِهِ ہے کیونکہ یہ مصادرہ علی المطلوب ہے جو مناظرات الْإِعْتِرَاضَاتِ فَإِنَّهَا مُصَادَرَةٌ وَ مِن میں ممنوع ہے اور تجھے یہ بات کفایت کرتی ہے کہ تمام الْمَمْنُوعَاتِ وَكَفَاكَ أَنَّ الْأَلْسِنَةَ كُلَّهَا زبانیں بہت سے مفردات میں شریک ہیں اور میں نے یہ مُشْتَرِكَةٌ فِي كَثِيرٍ مِّنَ الْمُفْرَدَاتِ وَ مَا مبالغہ سے نہیں کہا ۔ بلکہ میں عنقریب تجھے بدیہات کی أَوْ غَلْتُ بَلْ سَأُرِيكَ كَأَجَلَى الْبَدِيهِيَّاتِ طرح دکھلاؤں گا۔ پس تو قائم اور ثابت قدم ہو جا جیسا کہ تو فَاسْتَقِمْ كَمَا سَمِعْتَ وَ لَا تَكُن مِّن نے سن لیا اور خطا کاروں میں سے مت ہو اور میں نے الْمُخْطِينَ وَإِنِّي لَمَّا وَجَدْتُ الدَّلائِلَ مِن جب قرآن کریم سے دلائل پائے اور کتاب اللہ کی گواہی الْفُرْقَانِ وَالْمَنَّ قَلْبِي بِكِتَابِ الله سے میرا دل مطمئن ہو گیا تو میں نے ارادہ کیا کہ احادیث الرَّحْمَانِ أَرَدْتُ أَنْ أَطْلُبَ الشَّهَادَةَ مِنَ سے بھی کچھ دلائل لوں پس جبکہ میں نے حدیث کو دیکھا تو الْآثَارِ فَإِذَا فِيهَا كَثِيرٌ مِنَ الْأَسْرَارِ اس میں بہت بھید پائے پس میں ایسا خوش ہوا جیسا کہ فَفَرِحْتُ بِهَا فَرْحَةَ النَّشْوَانِ بِالطَّلَاء وَ نشاء پینے والا شراب سے خوش ہوتا ہے اور جیسا کہ مست وَجَدْتُ وَجْدَ النَّمِلِ بِالصَّهْبَاءِ وَشَكَرْتُ کو شراب سے خوشی پہنچتی ہے اور خدا تعالیٰ کا میں نے شکر کیا جو سچوں کا حامی ہے ۔ ( ترجمہ اصل کتاب سے ) اللهَ نَصِيرَ الصَّادِقِينَ ( من الرحمن ، روحانی خزائن جلد ۹، صفحه ۱۸۱ تا ۱۸۶) |