تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 152
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۲ سورة الانعام قَدَرُوا اللهَ حَقَّ قَدْرِہ کے پورے مصداق ہیں ۔ دنیا میں اگر کوئی ابتلا پیدا ہوتا ہے تو اس کے مصالحہ اور اسباب کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ اس وقت دنیا بہت تاریکی میں پھنسی ہوئی ہے اور اس کو مردہ پرستی نے ہلاک کر ڈالا ہے لیکن اب خدا نے ارادہ کر لیا ہے کہ وہ دنیا کو اس ہلاکت سے نجات دے اور اس تاریکی سے اس کو روشنی میں لاوے۔ یہ کام بہتوں کی نظر میں عجیب ہے مگر جو یقین رکھتے ہیں کہ خدا قادر ہے وہ اس پر ا ایمان لاتے ہیں وہ خدا جس نے ایک گن کے کہنے سے سب کچھ کر دیا کیا قادر نہیں کہ اپنے قدیم ارادہ کے موافق ایسے اسباب پیدا کرے جو لا اله الا اللہ کو دنیا تسلیم کرلے۔ الحکم جلد ۸ نمبر ۱۶ مورخه ۱۷ رمئی ۱۹۰۴ء صفحه (۳) بعض آدمی اپنی بیوقوفی اور شتاب کاری سے یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ کیا ہم نے ولی بننا ہے؟ میرے نزدیک ایسے لوگ کفر کے مقام پر ہیں ۔ اللہ تعالیٰ تو سب کو ولی کہتا ہے اور سب کو ولی بنانا چاہتا ہے اسی لئے وہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی ہدایت کرتا ہے ۔ وہ چاہتا ہے کہ تم منعم علیہ گروہ کی مانند ہو جاؤ۔ جو کہتا ہے کہ میں ایسا نہیں ہو سکتا وہ اللہ تعالیٰ پر بخل کی تہمت لگاتا ہے اور اس لئے یہ کلمہ کفر ہے ۔۔۔۔۔۔ مگر اصل یہ ہے کہ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ ہی کو شناخت نہیں کیا مَا قَدَرُوا اللهَ حَقَّ قَدْرِهِ الحکم جلد ۹ نمبر ۳۵ مبر ۳۵ مورخه ۱۰ ۱۰ را کتوبر ۱۹۰۵ ء صفحه ۱۱) اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے اگر ہمارے پاس کبھی کچھ ہو تو دوسرے دن سب خرچ ہو جاتا ہے جو کچھ ہوتا ہے جماعت کا ہوتا ہے اور وہ بھی لنگر خانہ میں خرچ ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات کچھ بھی نہیں رہتا اور ہمیں غم پیدا ہوتا ہے۔ تب خدا تعالیٰ کہیں سے بھیج دیتا ہے اکثر لوگ خدا تعالیٰ کی پوری پوری قدر نہیں سمجھتے ۔ وَمَا قَدَرُوا اللهَ حق قدره خدا تعالیٰ تو فرماتا ہے۔ وَ فِي السَّمَاءِ رِزْقُكُمْ وَمَا تُوعَدُونَ (النَّارِيَاتِ : ۲۳) ۔ الحکم جلد ا ا نمبر ۳۴ مورخہ ۲۴ ستمبر ۱۹۰۷ صفحه ۹) یا درکھو کہ ہر یک چیز خدا تعالیٰ کی آواز سنتی ہے ہر ایک چیز پر خدا تعالیٰ کا تصرف ہے اور ہر ایک چیز کی تمام ڈوریاں خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں اس کی حکمت ایک بے انتہا حکمت ہے جو ہر یک ذرہ کی جڑ تک پہنچی ہوئی ہے اور ہر ایک چیز میں اتنی ہی خاصیتیں ہیں جتنی اس کی قدرتیں ہیں جو شخص اس بات پر ایمان نہیں لاتا وہ اس گروہ میں داخل ہے جو مَا قَدَرُوا اللهَ حَقَّ قَدْرِہ کے مصداق ہیں اور چونکہ انسان کامل مظہر اتم تمام عالم کا ہوتا ہے اس لیے تمام عالم اس کی طرف وقتاً فوقتاً کھینچا جاتا ہے وہ روحانی عالم کا ایک عنکبوت ہوتا ہے اور تمام عالم اس کی تاریں ہوتی ہیں اور خوارق کا یہی ستر ہے۔