تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 125
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام بود انفُسَهُمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ ۱۲۵ سورة الانعام کا فرلوگ جو اہل کتاب ہیں ایسے ایسے یقینی طور پر اس کو شناخت کرتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو۔ الحق مباحثہ دہلی ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۱۶۶) وَ مَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِأَيْتِهِ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الظَّلِمُونَ اس سے زیادہ تر ظالم اور کون ہے جو خدا تعالیٰ پر جھوٹ باندھے۔ بیشک مفتری خدا تعالیٰ کی لعنت کے نیچے ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ پر افترا کرنے والا جلد مرا جاتا ہے۔ انجام آتھم ، روحانی خزائن جلد ا ا صفحه ۵۰) افترا سے مراد ہمارے کلام میں وہ افترا ہے کہ کوئی شخص عمداً اپنی طرف سے بعض کلمات تراش کر یا ایک کتاب بنا کر پھر یہ دعویٰ کرے کہ یہ باتیں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور اس نے مجھے الہام کیا ہے اور ان باتوں کے بارے میں میرے پر اس کی وحی نازل ہوئی ہے حالانکہ کوئی وحی نازل نہیں ہوئی ۔ سو ہم نہایت کامل تحقیقات سے کہتے ہیں کہ ایسا افترا کبھی کسی زمانہ میں چل نہیں سکا اور خدا کی پاک کتاب صاف گواہی دیتی ہے کہ خدا تعالیٰ پر افترا کرنے والے جلد ہلاک کیے گئے ہیں ۔ انجام آتھم ، روحانی خزائن جلد ا ا صفحه ۲۳ حاشیہ ) قرآن شریف میں صد ہا جگہ اس بات کو پاؤ گے کہ خدا تعالیٰ مفتری علی اللہ کو ہرگز سلامت نہیں چھوڑتا اور اسی دنیا میں اس کو سزا دیتا ہے اور ہلاک کرتا ہے۔ دیکھو اللہ تعالیٰ ایک موقع میں فرماتا ہے کہ قَدْ خَابَ مَن افترای یعنی مفتری نامراد مرے گا اور دوسری جگہ فرماتا ہے : وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِايْته (طه : ۲۲) یعنی اس شخص سے ظالم ترکون ہے جو خدا پر افترا کرتا ہے یا خدا کی آیتوں کی تکذیب کرتا ہے اب ظاہر ہے کہ جن لوگوں نے خدا کے نبیوں کے ظاہر ہونے کے وقت خدا کے کلام کی تکذیب کی کو زندہ نہیں چھوڑا اور برے برے عذابوں سے ہلاک کر دیا۔ دیکھونوٹ کی قوم اور عاد و ثمود اور لوط کی قوم اور فرعون اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن مکہ والے ان کا کیا انجام ہوا۔ پس جبکہ تکذیب کرنے والے اسی دنیا میں سزا پا چکے تو پھر جو شخص خدا پر افترا کرتا ہے جس کا نام اس آیت میں پہلے نمبر پر ذکر کیا