تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 126 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 126

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۲۶ سورة الانعام گیا ہے وہ کیوں کر بچ سکتا ہے کیا خدا کا صادقوں اور کا ذبوں سے معاملہ ایک ہوسکتا ہے اور کیا افترا کرنے والوں کے لیے خدا تعالیٰ کی طرف سے اس دنیا میں کوئی سزا نہیں ۔ مَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ (الصفت : ۱۵۵) اربعین، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۴۳۳، ۴۳۴) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خدا پر افترا کرنے والا سب کافروں سے بڑھ کر کافر ہے جیسا کہ فرماتا ہے : فَمَن أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِایته - یعنی بڑے کا فردو ہی ہیں ایک خدا پر افترا کرنے والا دوسرا خدا کی کلام کی تکذیب کرنے والا پس جبکہ میں نے ایک مکذب کے نزدیک خدا پر افترا کیا ہے اس صورت میں نہ میں صرف کافر بلکہ بڑا کافر ہوا اور اگر میں مفتری نہیں تو بلا شبہ وہ کفر اس پر پڑے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں خود فرمایا ہے۔ ( حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۶۳) ظالم سے مراد اس جگہ کافر ہے اس پر قرینہ یہ ہے کہ مفتری کے مقابل پر مکذب کتاب اللہ کو ظالم ٹھہرایا ہے اور بلا شبہ وہ شخص جو خدا تعالیٰ کے کلام کی تکذیب کرتا ہے کافر ہے سو جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ مجھے مفتری اور بلاشبہ قرار دے کر مجھے کافر ٹھہراتا ہے اس لیے میری تکفیر کی وجہ سے آپ کا فر بنتا ہے۔ ( حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۶۷ حاشیه ) اس سے ظالم ترکون ہے کہ خدا پر افترا کرے یا خدا کے کلام کی تکذیب کرے۔ ( حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۵۷۹) لد ۲۲ صفحه ۵۷۹) جو شخص دلائل اور نشانات کو دیکھتا ہے اور پھر دیانت، امانت اور انصاف کو ہاتھ سے چھوڑتا ہے اسے یاد رکھنا چاہیے کہ مَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِأَيْتِهِ - الحکم جلد ۶ نمبر ۴۹ مورخه ۱۰ دسمبر ۱۹۰۲ صفحه (۲) وہ شخص جو رات کو ایک بات بنا تا اور دن کو لوگوں کو بتاتا اور کہتا ہے کہ مجھے خدا نے ایسا کہا ہے وہ کیوں کر با مراد اور با برگ و بار ہو سکتا ہے۔ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴۱ مورخہ ۱۴ جولائی ۱۹۰۸ صفحه (۱۳) اس شخص سے ظالم ترکون ہے جو خدا پر افترا کرے یا خدا کی آیتوں اور نشانوں کا مکذب ہو۔ مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ ۶۷۷) کذب اختیار کرنے سے انسان کا دل تاریک ہو جاتا ہے اور اندر ہی اندر اسے ایک دیمک لگ جاتی ہے۔ ایک جھوٹ کے لیے پھر اسے بہت سے جھوٹ تراشنے پڑتے ہیں کیونکہ اس جھوٹ کو سچائی کا رنگ دینا ہوتا ہے۔ پس اسی طرح اندر ہی اندر اس کے اخلاقی اور روحانی قومی زائل ہو جاتے ہیں اور پھر اسے