تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 12
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۲ سورة ال عمران پیشگوئی میں وعدہ ہو یعنی کسی انعام اکرام کی نسبت پیشگوئی ہو وہ کسی طرح ٹل نہیں سکتی۔ خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ : إِنَّ اللهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ مگر کسی جگہ یہ نہیں فرمایا کہ: إِنَّ اللَّهَ لَا يُخْلِفُ الْوَعِيدَ ۔ پس اس میں راز یہی ہے کہ وعید کی پیشگوئی خوف اور دُعا اور صدقہ خیرات سے مل سکتی ہے۔ تمام پیغمبروں کا اس پر ہے کہ صدقہ اور دُعا اور خوف اور خشوع سے وہ بلا جو خدا کے علم میں ہے، جو کسی شخص پر آئے گی وہ رڈ اتفاق ہو سکتی ہے۔ ( تذکرة الشهادتين ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۴۴) قُلْ لِلَّذِينَ كَفَرُوا سَتُغْلَبُونَ وَتُحْشَرُونَ إِلَى جَهَنَّمَ وَبِئْسَ الْمِهَادُ (۱۳ کافروں کو کہہ دے کہ تم عنقریب مغلوب کئے جاؤ گے اور پھر آخر جہنم میں پڑو گے۔ ( براہین احمد یہ ہر چہار تخصص ، روحانی خزائن جلدا ، صفحه ۲۴۹ حاشیہ نمبر ۱۱) انسان جس لذت کا خو گرفتہ اور عادی ہو جب وہ اس سے چھڑائی جاوے تو وہ ایک دکھ اور درد محسوس کرتا ہے اور یہی جہنم ہے پس جبکہ ساری لذتیں دنیا کی چیزوں میں محسوس کرنے والا ہو تو ایک دن یہ ساری لذتیں تو چھوڑنی پڑیں گی پھر وہ سیدھا جہنم میں جاوے گا لیکن جس شخص کی ساری خوشیاں اور لذتیں خدا میں ہیں اس کو کوئی دکھ اور تکلیف محسوس نہیں ہو سکتی ۔ وہ اس دنیا کو چھوڑتا ہے تو سیدھا بہشت میں ہوتا ہے۔ الحکم جلدے نمبر ۱ ، مورخہ ۱۰ جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۱) الصَّبِرِينَ وَالصُّدِقِينَ وَ الْقَنِتِينَ وَ الْمُنْفِقِينَ وَ الْمُسْتَغْفِرِينَ بِالْأَسْحَارِ خدا تعالیٰ ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ تم ہر روز صبح کے وقت استغفار کیا کرو۔ وہ فرماتا ہے: الطبرين وَالصُّدِقِينَ وَالْقُنِتِينَ وَالْمُنْفِقِينَ وَالْمُسْتَغْفِرِينَ بِالْأَسْحَارِ پھر فرماتا ہے : إِنَّهُمْ كَانُوا قَبْلَ ذَلِكَ مُحْسِنِينَ كَانُوا قَلِيلًا مِّنَ الَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ وَ بِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ (الذاريات: ۱۷ تا ۱۹ ) ان آیات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ ہمیں یہی حکم نہیں کرتا کہ جس وقت تم سے کوئی گناہ سرزد ہو اُس وقت استغفار کیا کرو بلکہ یہ بھی چاہتا ہے کہ بغیر گناہوں کے ارتکاب کے بھی ہم استغفار کیا کریں۔ ریویو جلد ۲ نمبر ۶ بابت جون ۱۹۰۳ ء صفحه (۲۴۳) لے استغفار کے لئے دیکھیں تفسیر سورۃ البقرۃ آیت نمبر ۲۰۰