تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 13 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 13

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳ سورة ال عمران إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللهِ الْإِسْلَامُ وَ مَا اخْتَلَفَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ وَمَنْ يَكْفُرُ بِأَيْتِ اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ ۔ اسلام کے لفظ میں نظر کیجئے کہ اس کے لغوی معنے تو صرف یہی ہیں کہ جو کسی کو کام سونپا یا ترک مقابلہ اور فروگذاشت اور اطاعت ۔ ( براہین احمد یہ ہر چہار خصص ، جلد اصفحه ۲۴۵ حاشیه در حاشیه ۱) واضح ہو کہ لغت عرب میں اسلام اس کو کہتے ہیں کہ بطور پیشگی ایک چیز کا مول دیا جائے اور یا یہ کہ کسی کو اپنا کام سونپیں اور یا یہ کہ صلح کے طالب ہوں اور یا یہ کہ کسی امر یا خصومت کو چھوڑ دیں۔ اور اصطلاحی معنے اسلام کے وہ ہیں جو اس آیت کریمہ میں اس کی طرف اشارہ ہے یعنی یہ کہ: بلی مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَةَ أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ( البقرة : ١١٣ ) یعنی مسلمان وہ ہے جو خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے تمام وجود کو سونپ دیوے یعنی اپنے وجود کو اللہ تعالیٰ کے لئے اور اس کے ارادوں کی پیروی کے لئے اور اس کی خوشنودی کے حاصل کرنے کے لئے وقف کر دیوے اور پھر نیک کاموں پر خدا تعالیٰ کے لئے قائم ہو جائے اور اپنے وجود کی تمام عملی طاقتیں اُس کی راہ میں لگا دیوے مطلب یہ ہے کہ اعتقادی اور عملی طور پر محض خدا تعالیٰ کا ہو جاوے۔ وو اعتقادی طور پر اس طرح سے کہ اپنے تمام وجود کو در حقیقت ایک ایسی چیز سمجھ لے جو خدا تعالیٰ کی شناخت اور اس کی طاعت اور اس کے عشق اور محبت اور اس کی رضا مندی حاصل کرنے کے لئے بنائی گئی ہے۔ اور عملی طور پر اس طرح سے کہ خالصا للہ حقیقی نیکیاں جو ہر ایک قوت سے متعلق اور ہر یک خدا داد توفیق سے وابستہ ہیں بجالا وے مگر ایسے ذوق وشوق و حضور سے کہ گویا وہ اپنی فرمانبرداری کے آئینہ میں اپنے (آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۵۸،۵۷) معبود حقیقی کے چہرہ کو دیکھ رہا ہے۔ حقیقت اسلامیہ جس کی تعلیم قرآن کریم فرماتا ہے کوئی نئی چیز نہیں ہے بلکہ تمام انبیاء علیہم السلام اسی حقیقت کے ظاہر کرنے کے لئے بھیجے گئے تھے اور تمام الہی کتابوں کا یہی مدعا رہا ہے کہ تا بنی آدم کو اس صراط مستقیم پر قائم کریں لیکن قرآن کریم کی تعلیم کو جو دوسری تعلیموں پر کمال درجہ کی فوقیت ہے تو اس کی